پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول مذاکرات کا تیسرا دن ، مذاکرات تعطل کا شکار

09:35 AM, 28 Oct, 2025

استنبول :  پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا تیسرا دن بھی مشکلات کا شکار رہا، اور افغان طالبان سے حوصلہ افزا جواب نہ مل سکا۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان اپنے پیش کردہ منطقی مطالبات پر قائم ہے، مگر افغان طالبان کا وفد ان مطالبات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

پاکستانی وفد کا موقف بدستور مضبوط اور منطقی ہے، جس میں امن کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔ میزبان ممالک نے بھی پاکستان کے مطالبات کو معقول اور جائز قرار دیا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ افغان طالبان کا وفد خود بھی ان مطالبات کو درست سمجھتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کا وفد کابل سے براہ راست کنٹرول ہو رہا ہے، اور بار بار کابل انتظامیہ سے رابطہ کر کے انہی کے احکامات کے مطابق مذاکرات میں آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم، کابل انتظامیہ کی جانب سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں آ رہا، جس سے مذاکرات میں تعطل آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ کابل میں کچھ عناصر کسی دوسرے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

پاکستانی وفد نے بار بار یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ ان مطالبات کو تسلیم کرنا نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے مفاد میں بھی ہے، اور میزبان ممالک نے افغان وفد کو بھی اس بات کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا تھا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دوسرے دور کا اجلاس بھی چند روز قبل استنبول میں ہوا تھا، جس میں پہلے دور میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے افغان حکام کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا تھا، جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ افغان طالبان کے پاس دو ہی آپشن ہیں: یا تو وہ امن کے ساتھ رہیں، یا پھر پاکستان ان کے ساتھ کھلی جنگ کرے گا۔

مزیدخبریں