مسقط: پاکستان سکولز عمان نے اپنے قیام کی پچاسویں سالگرہ نہایت فخر و وقار کے ساتھ منائی، جو نصف صدی پر محیط ایک ایسے سفر کی یادگار ہے جس میں تعلیمی معیار، اخلاقی تربیت، ثقافتی ہم آہنگی اور سماجی خدمت نمایاں رہیں۔
یہ گولڈن جوبلی تقریب مسقط میں شاندار انداز میں منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانی و انسانی وسائل، عزت مآب چوہدری سالک حسین تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان سکولز عمان نہ صرف پاکستانی برادری بلکہ بین الاقوامی طلبہ کے لیے بھی نظم و ضبط، تعلیم اور بین الثقافتی ہم آہنگی کی روشن مثال ہے۔ یہ ادارہ پاکستان اور عمان کے تعلقات کو عوامی سطح پر مزید مضبوط کر رہا ہے۔
تقریب میں عمان اور پاکستان کی معزز شخصیات، سفارتی نمائندگان اور بین الاقوامی مہمانوں نے شرکت کی، جن میں ڈائریکٹر جنرل وزارتِ تعلیم و تربیت، ڈاکٹر خدیجہ سلامی،یونیسکو عمان کی سربراہ، یسرٰی الحارثی،سپیکر مجلسِ شوریٰ، سالم المحروقی،ممبر مجلسِ شوریٰ، ڈاکٹر علی الحراصی،سینیٹر عوض باقویر،شیخ نجیب الزدجالی،سفیرِ پاکستان سید نوید صفدر بخاری،برطانیہ، چین، ازبکستان، سوڈان اور دیگر ممالک کے سفارتکار شامل تھے۔
اپنے پیغام میں سفیر پاکستان سید نوید صفدر بخاری نے کہاپاکستان اور سلطنتِ عمان کے تعلقات تعلیم، ثقافت اور عوامی رابطوں کے ذریعے پہلے سے زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو رہے ہیں۔ پاکستان اسکولز عمان اس دوستی کی بہترین مثال ہیں۔چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز، امیر حمزہ نے گزشتہ نصف صدی کے تعلیمی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسکولز عمان خلیجی خطے کا واحد غیر منافع بخش پاکستانی تعلیمی ادارہ ہے جو اپنے وسائل اور عزم کے بل بوتے پر ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں میں پہلی مرتبہ ادارے کا جامع بیرونی آڈٹ مکمل ہوا ہے، جو مالی شفافیت اور احتساب کے عزم کی واضح علامت ہے۔ اس کے ساتھ ہی پچھلے تین برسوں میں طلبہ کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے، جو والدین کے اعتماد اور اساتذہ کی محنت کا نتیجہ ہے۔
تقریب میں اساتذہ، والدین، طلبہ اور سابق طلبہ (Alumni) کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے گولڈن جوبلی کے موقع پر اپنے ادارے کی کامیابیوں پر مسرت اور فخر کا اظہار کیا۔تقریب کا اختتام قومی ترانے اور یادگاری شیلڈز کی تقسیم کے ساتھ ہوا۔
یہ گولڈن جوبلی محض ایک تقریب نہیں بلکہ تعلیم، خدمت اور استحکام کے اُس نصف صدی پر خراجِ تحسین تھی جس نے پاکستان اسکولز عمان کو ایک روشن تعلیمی میراث بنا دیا۔