دبئی : ایشیا کپ 2025 کی تاریخ ساز شب آج رقم ہونے جا رہی ہے جب پاکستان اور بھارت پہلی بار اس ایونٹ کے فائنل میں براہ راست ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں گے۔ دونوں روایتی حریف 41 برس بعد کسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں ٹائٹل کے لیے آمنے سامنے ہوں گے۔ میچ آج شام ساڑھے 7 بجے دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہوگا۔
اس میچ کے حوالے سے شائقینِ کرکٹ میں زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے، اور پاکستانی عوام اپنی ٹیم سے تاریخی جیت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر قومی ٹیم سے دلیرانہ کارکردگی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے، خاص طور پر کپتان سلمان علی آغا، شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب سے بڑی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے سپر فور مرحلے میں اہم میچ میں بنگلہ دیش کو 11 رنز سے شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔ دوسری جانب بھارت اس ٹورنامنٹ میں دو بار پاکستان کو شکست دے چکا ہے، لیکن فائنل میچ کی نوعیت بالکل مختلف ہوتی ہے، جہاں دونوں ٹیمیں ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔
تاریخی اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پاکستان اور بھارت اب تک 5 مرتبہ مختلف ایونٹس کے فائنل میں آمنے سامنے آ چکے ہیں، جن میں پاکستان نے 3 جبکہ بھارت نے 2 بار فتح حاصل کی ہے۔
گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ "ہم پرامید ہیں کہ ٹیم فائنل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ ہمارا مقصد ایشیا کپ جیتنا ہے، اور اس کے لیے ہر کھلاڑی پرعزم ہے۔ ہم گزشتہ میچز کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ٹیموں پر برابر کا دباؤ ہوگا اور ممکن ہے کہ پاکستان نے اپنی بہترین بیٹنگ فائنل کے لیے بچا رکھی ہو۔ صائم ایوب سے اچھی اننگز کی توقع ظاہر کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ ٹیم کا انتخاب پچ کی صورتحال دیکھ کر کیا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلوں میں سخت حالات ضرور ہوتے ہیں، لیکن کبھی بھی کھیل کے آداب کو نظرانداز نہیں کیا گیا۔ "فوٹو شوٹ ہو یا ہینڈ شیک، ہم پروفیشنل انداز میں ہر روایت نبھائیں گے۔"
کرکٹ مداح اس عظیم مقابلے کے شدت سے منتظر ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ قومی ٹیم آج تاریخ رقم کرے گی۔ اس فائنل کی اہمیت صرف ٹرافی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک جذبے، غیرت اور روایتی حریف کو زیر کرنے کی جنگ ہے۔