برلن : جرمنی نے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ناکہ بندی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ کو فوری طور پر بحال کرے۔ جرمن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔
جرمن وزیر خارجہ جان ویڈ فال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث ہزاروں تجارتی جہاز پھنس چکے ہیں اور تقریباً 20 ہزار ملاح سمندر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ناکہ بندی کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت کے مستقبل پر پڑ رہے ہیں۔
جرمن وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کو فوری طور پر ایک قرارداد منظور کرنی چاہیے تاکہ اس آبی گزرگاہ میں امن و امان بحال ہو سکے۔جرمنی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ عالمی معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
یاد رہے کہ 15 رکنی سلامتی کونسل میں 5 مستقل اراکین (چین، فرانس، روس، امریکا اور برطانیہ) ویٹو پاور کے حامل ہیں، جبکہ 10 غیر مستقل نشستیں مختلف خطوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔
"تیل مہنگا ہو رہا ہے، ناکہ بندی ختم کی جائے"؛ جرمنی کا ایران کو دوٹوک پیغام
09:06 AM, 29 Apr, 2026