مشرقِ وسطیٰ جنگ نے ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا، پٹرولیم بل 80 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا: وزیراعظم شہباز شریف

08:10 PM, 29 Apr, 2026

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی موجودہ معاشی اور دفاعی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے پاکستان کی دو سالہ اجتماعی معاشی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ترقی کا سفر رک گیا ہے۔
وزیراعظم نے عوام کو خبردار کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جو کہ ایک چیلنجنگ صورتحال ہے۔ انہوں نے بتایا جنگ سے پہلے پاکستان کا ایک ہفتے کا پٹرولیم بل 30 کروڑ ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت جمعہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دوبارہ تعین کرے گی، جس کا مقصد عالمی نرخوں کے اثرات کو منظم کرنا ہے۔
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان کی بھرپور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ11 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان 21 گھنٹے طویل بات چیت ہوئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خطے میں امن کے قیام کے لیے انتھک محنت کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کر کے مزید پیشرفت سے آگاہ کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ انہوں نے معاشی محاذ پر ایک بڑی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات (UAE) سے لیے گئے قرضے واپس کر دیے ہیں، جو معیشت کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔"جنگ نے ہمارے معاشی سفر کو متاثر کیا ہے، لیکن ہم دن رات معیشت کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں اور خطے میں امن کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

مزیدخبریں