لاہور : صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ اگر دریا کی گزرگاہوں کو خالی نہ کیا گیا تو صوبے کو سیلاب کی صورت میں مسلسل نقصان اٹھانا پڑے گا۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فلڈ پلان ایکٹ کے تحت آبی گزرگاہوں پر قائم تمام غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر ختم کیا جائے گا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام سے گزرنے والا 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک کا ریلا 1988 کے بعد سب سے بڑا تھا، تاہم بروقت اقدامات کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ان کے مطابق، شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں مزید کمی متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کے نو مقامات پر سیلابی پانی داخل ہوا، جہاں سے تمام متاثرہ افراد کو بروقت ریسکیو کر لیا گیا۔ اس وقت بلوکی کے مقام پر 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ جاری ہے، جو آگے چل کر دریائے راوی میں شامل ہوگا۔ حکومت نے دریا کی گزرگاہوں میں رہائش پذیر افراد کو سختی سے انخلا کا حکم دیا ہے، اور بعض مقامات پر طاقت کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے انکشاف کیا کہ بھارت کی جانب سے مادھوپور ہیڈورکس سے مسلسل 80 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے، جو لاہور، چنیوٹ اور پھر ریواز برج تک پہنچے گا۔ ان کے بقول، ریواز برج اس وقت سب سے زیادہ تشویش ناک مقام ہے، اور جھنگ کو بچانے کے لیے بند توڑنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قصور کے قریب دریائے ستلج میں مسلسل چار روز سے 2 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ جاری ہے، جس سے سلیمانکی کے مقام پر صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ اب تک صوبے بھر میں 1,769 مواضعات زیر آب آ چکے ہیں، 14 ہزار سے زائد افراد متاثر، جبکہ 4 ہزار سے زیادہ لوگ کیمپوں میں موجود ہیں۔ مجموعی طور پر 4 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ سیلاب کے باعث صوبے میں اب تک 20 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ متاثرین کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اب بھی ہائی الرٹ پر ہے اور سندھ حکومت کو ممکنہ خطرات سے متعلق پیشگی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کوہ سلیمان پر بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو رہا ہے، جس سے رود کوہیوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے پانی کے اخراج سے متعلق بروقت اطلاع نہ دینے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس معاملے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آخر میں عرفان علی کاٹھیا نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر دریا کے کنارے اور آبی گزرگاہوں سے نکل جائیں تاکہ ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔