اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرے۔
ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبی معاملات کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا خطے میں باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ نئی دہلی اپنی خواہش کے مطابق دہائیوں پر محیط آبی انتظام کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بین الاقوامی معاہدے سے علیحدگی یا اس کی حیثیت تبدیل کرنے کا فیصلہ محض یکطرفہ اعلان سے نہیں بلکہ طے شدہ بین الاقوامی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہے۔ بھارتی حکومت کے اقدامات پاکستان کے جائز آبی مفادات کو متاثر نہیں کر سکتے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی فورمز سے رجوع کرنے کا قانونی اختیار رکھتا ہے۔ بھارت پن بجلی منصوبوں کی آڑ میں دریاؤں کے بہاؤ اور آبی منصوبوں سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دریائی حصے کو بھارتی عنایت قرار دینا تاریخی حقائق اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ آبی انتظام کی نفی ہے۔ پاکستان کے پانی کا تحفظ قومی سلامتی، زرعی پیداوار اور عوامی زندگی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
شیری رحمان نے زور دیا کہ بھارت پانی کو سیاسی سودے بازی کا ذریعہ بنانے کے بجائے سندھ طاس معاہدے کی روح اور بین الاقوامی اصولوں کا احترام کرے۔
بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے، پانی کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ نہ بنائے: شیری رحمان
07:42 PM, 29 Aug, 2026