سانحہ پمز: انکوائری رپورٹ وزیراعظم کو پیش، 8 افسران و اہلکار معطل کرنے کی منظوری

08:19 PM, 29 Aug, 2026

لاہور: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پمز واقعے سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کی نشاندہی پر 8 افسران و اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نے واقعے کے ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
معطل کیے جانے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔
اجلاس میں وزیراعظم کی سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم نے وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون سکیورٹی گارڈ کو او ایس ڈی بنانے اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے عہدوں سے ہٹائے گئے افسران و اہلکاروں کی جگہ فوری طور پر نئی تعیناتیاں کرنے کی ہدایت بھی کی، تاکہ ہسپتال کے انتظامی و طبی امور متاثر نہ ہوں۔وزیراعظم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارۂ خدمت دینے کی منظوری بھی دی۔
اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت ایک اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں اور واقعے کے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

مزیدخبریں