یوکرین امن معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں ، صدر ٹرمپ

09:18 AM, 29 Dec, 2025

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے امن منصوبے پر پیشرفت ہوئی ہے، لیکن کچھ اہم مسائل ابھی تک حل نہیں ہو سکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے یوکرین امن منصوبے کے متعدد نکات پر بات چیت کی اور وہ بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، شاید بہت زیادہ قریب ہیں،" تاہم اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ کچھ پیچیدہ مسائل حل ہونا باقی ہیں۔

زیلنسکی نے اس ملاقات کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کا 20 نکاتی امن منصوبہ 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور امریکی سکیورٹی ضمانتیں 100 فیصد طے پا چکی ہیں۔ تاہم، ٹرمپ نے ان ضمانتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تقریباً 95 فیصد مکمل ہو چکی ہیں لیکن اس پر کسی تفصیل میں جانا نہیں چاہتے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین، امریکا اور روس کے درمیان سہ فریقی ملاقات ممکن ہو سکتی ہے، اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن بھی اس ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ پیوتن کے ساتھ ان کی دو گھنٹے تیس منٹ تک تفصیلی فون کال ہوئی تھی، جس میں پیوتن نے سہ فریقی ملاقات کی ضرورت پر زور دیا۔

اس ملاقات کے دوران یوکرین کے امن منصوبے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ابھی بھی کچھ غیر حل شدہ مسائل موجود ہیں، خاص طور پر ڈونباس کے علاقے میں فری ٹریڈ زون کے معاہدے کے حوالے سے۔ ٹرمپ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ معاملہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا، لیکن انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک اس پر جلد اتفاق کر لیں گے۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ سب سے مشکل مسئلہ کون سا ہے جو ابھی تک حل نہیں ہوا، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ معاملہ زمینوں پر قابضیت کا ہے، یعنی کون کس زمین پر کہاں ہونا چاہیے۔ تاہم، ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ آنے والے مہینوں میں اس پر مزید بات چیت ہوگی۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ اس تنازعے کو ختم کیا جائے، اور انہوں نے یوکرین کا دورہ کرنے کی پیشکش کی ہے بشرطیکہ پہلے امن معاہدہ طے پا جائے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے یوکرینی پارلیمنٹ میں خطاب کرنے کی بھی پیشکش کی، جس پر زیلنسکی نے کہا کہ "ہم آپ کو ہمیشہ خوش آمدید کہتے ہیں۔"

مزیدخبریں