کراچی :خود کش بمبار بننے سے بچنے والی متاثرہ بلوچ بچی نے اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ واٹس ایپ گروپس کے ذریعے دہشت گردی کو بہادری اور عظیم مقصد کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ مسلسل انتہاپسندانہ مواد دکھا کر اس کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی کہ جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے۔ ایک ہی نوعیت کے پیغامات بار بار دیکھنے سے آہستہ آہستہ اسے یہی سب سچ محسوس ہونے لگا۔
متاثرہ بچی نے سکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی کے باعث وہ خودکش بمبار بننے سے بچ گئی۔ اس نے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے آن لائن پروپیگنڈے اور ان کی چالوں سے ہوشیار رہیں اور ایسے مواد سے خود کو محفوظ رکھیں۔