لاہور مین ہول سانحہ: وزیراعلیٰ مریم نواز کا بڑا ایکشن، ڈی سی لاہور فارغ، پراجیکٹ منیجر سمیت 3 افسر گرفتار

08:18 PM, 29 Jan, 2026

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ کے قریب مین ہول میں گر کر ماں بیٹی کی ہلاکت کے واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لاہور کو عہدے سے فارغ کر دیا ہے، جبکہ مجرمانہ غفلت کے الزام میں پراجیکٹ منیجر سمیت تین ذمہ داران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایم ڈی واسا ، ڈائریکٹر جنرل    ایل ڈی اے اورکمشنر لاہور سمیت تمام اداروں کو  ذمہ دار قراردیاگیا،پراجیکٹ ڈائریکٹرٹیپا زاہد حسین اور واسا افسر عثمان بابر کو تاحیات برخاست کرنے کاحکم  دیاگیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ متاثرہ ماں اور بیٹی اندھیرے کے باعث رکشے پر سوار ہوتے وقت کھلے مین ہول میں گریں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جائے وقوعہ پر تعمیراتی کام جاری تھا لیکن وہاں حفاظتی انتظامات کے حوالے سے انتہائی غفلت برتی گئی۔ ریسکیو حکام نے طویل آپریشن کے بعد ماں کی لاش گزشتہ روز اور بچی کی لاش آج برآمد کی۔
وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "انتظامیہ کی نااہلی نے ایک ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا، اس غفلت کی جوابدہ انتظامیہ کے ساتھ میں خود بھی ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں ہر جان قیمتی ہے اور کسی کو بھی فرائض میں کوتاہی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واقعے کی تحقیقات کے بعد وزیراعلیٰ نے درج ذیل اقدامات کے احکامات جاری کیے۔ڈپٹی کمشنر لاہور کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔پولیس نے پراجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
مریم نواز نے متاثرہ خاتون کے شوہر کو تھانے میں بند کرنے پر پولیس کی شدید مذمت کی اور اسے "بڑی زیادتی" قرار دیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اس واقعے میں کمشنر، اے سی، ایل ڈی اے اور واسا کے حکام بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی مکمل کی جائے تاکہ آئندہ ایسے لرزہ خیز واقعات کا سدباب ہو سکے،انہوں نے کہاکہ متاثرہ  فیملی کو کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے دلوایا جائے ۔

مزیدخبریں