اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے اربعین کے موقع پر زائرین کے لیے زمینی راستوں پر پابندی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ "ہم کسی بھی غیرقانونی، غیرآئینی اور غیر اخلاقی اقدام کو قبول نہیں کریں گے،" اور مذہبی آزادی پر پابندی عائد کرنے کو آئین کے آرٹیکل 20 کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ زائرین کی گمشدگی پر وزارت مذہبی امور کو اپنی غلط بیانی پر معافی مانگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ زائرین کو روکنے کے لیے حکومت نے کسی بھی اسٹیک ہولڈر سے مشاورت نہیں کی۔ "زائرین نے ٹکٹ، ہوٹلز اور ویزوں پر 50 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے،" انہوں نے مزید کہا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے یہ بھی کہا کہ ایم ڈبلیو ایم ملک بھر میں گلگت بلتستان سے لے کر کراچی تک دھرنے اور پرامن احتجاج کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پاکستان کے آئینی اور مذہبی حقوق کی پامالی کی ہے اور حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرے۔
انہوں نے وزیر داخلہ کے ایران کے دورے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "وزیر داخلہ نے ایران اور عراق کے وزرا سے زائرین کی خدمت کے لیے بات کی تھی، لیکن چند دن بعد یہ معلوم ہوا کہ زائرین زمینی راستوں سے زیارات پر نہیں جا سکتے۔" انہوں نے اس سوال کا بھی جواب طلب کیا کہ "کیا حکومت کو یہ اچانک خیال آیا کہ زمینی راستہ سیکیورٹی رسک ہے؟"
علامہ راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ حکومت کی نااہلی کے باعث 67 ہزار پاکستانی حج سے محروم رہ گئے تھے۔ "آئین ہمیں مذہبی آزادی دیتا ہے، اور حکومت زمینی راستہ روک کر ہمارے آئینی اور مذہبی حقوق سے ہمیں محروم کر رہی ہے۔"
آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اگر زمینی راستہ بند کر رہی ہے تو اس کا کوئی متبادل راستہ فراہم کرے، کیونکہ حکومت کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔