یورپ میں شدید گرمی کی لہر، 1300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے

09:10 AM, 29 Jun, 2026

جنیوا: یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے مختلف ممالک میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ 21 جون سے اب تک شدید گرمی کے باعث 1300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گرمی کی شدت کے باعث اسپتالوں، ریسکیو اداروں اور ایمرجنسی سروسز پر غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا ہے اور امدادی کالز میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا ہے کہ یورپ کے بیشتر گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کو اس قدر شدید گرمی کے لیے تیار نہیں کیا گیا، جس کے باعث عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فرانس کے سرکاری ادارے پبلک ہیلتھ فرانس کے مطابق بدھ سے اب تک متوقع شرح سے تقریباً ایک ہزار زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ 24 جون کے بعد اموات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ شدید گرمی سے بچنے کے لیے پانی کا رخ کرنے والے افراد میں ڈوبنے کے واقعات بھی بڑھے ہیں، اور 18 جون سے اب تک دریاؤں، نہروں اور سوئمنگ پولز میں نہاتے ہوئے 74 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب جرمنی کے شہر لیپزگ میں شدید گرمی کے باعث سڑکوں کا اسفالٹ نرم پڑ گیا اور متعدد مقامات پر ٹرام کی پٹریاں متاثر ہوئیں، جس کے بعد حکام نے احتیاطاً ٹرام سروس پیر کی صبح تک معطل کر دی۔

ماہرین صحت نے شہریوں، خصوصاً بزرگ افراد، بچوں اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور گرمی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

مزیدخبریں