حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک سست، تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی

11:51 PM, 29 Jun, 2026

مسقط : آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمان کے قریب تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے اثرات واضح ہونے لگے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز پر شپنگ سرگرمیوں میں واضح سست روی ریکارڈ کی گئی ہے۔

میرین انٹیلی جنس کمپنی کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز صرف 16 تجارتی جہاز اس بحری گزرگاہ سے گزرے، جبکہ ہفتے کے روز یہ تعداد 35 اور جمعہ کو 44 تھی، جس سے چند ہی دنوں میں بحری ٹریفک میں نمایاں کمی ظاہر ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال اور جہازوں پر حملوں کے خدشات کے باعث متعدد شپنگ کمپنیوں نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں، جبکہ بعض کمپنیوں نے متبادل بحری راستوں کے استعمال پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کو خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار برآمد کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بحری آمدورفت میں کمی کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی سپلائی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزیدخبریں