فلسطینیوں کی بے بسی اور دبئی کی امداد 

06:43 PM, 29 Nov, 2025

تحریر: وجیہہ تمثیل مرزا 

ہزاروں معصوم فلسطینی اپنی ہی سرزمین میں عرصہ دراز سے اسرائیلی بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
لاکھوں مکانات، سیکڑوں سکول، ہسپتال مساجد اور دیگر عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں نہتے اور پر امن فلسطینی بے گھر و بے بس ہوکر کھلے آسمان تلے سؒخت موسم کی صعوبتیں جھیلنے پر مجبور ہیں۔ کوئی انکی دہائی سننے والا نہیں۔سب ان کے حق میں سڑکوں پر نکل کر تو آواز بلند کرتے ہیں لیکن ہر ملک کے باسی باقائدہ طور پر ان کا ساتھ دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ 
دو روز پہلے متحدہ عرب امارات نے فلسطینیوں کیلئے خوراک کے ایک کروڑ پیکٹس کی مہم شروع کردی ہے۔ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المختوم نے اپنی عوام سے فلسطینیوں کیلئے سے مدد کی اپیل کی تھی جس کے بعد سے خوراک پیکنگ ایکسپو سٹی میں جاری ہے۔
امدادی جہاز کے لیے رضاکار 7 دسمبر کو جمع ہوں گے جس دوران غزہ کے بچوں کیلئے فوری امداد تیار کی جائے گی۔ دوسری جانب شیخ محمد ہیومینیٹیرین شپ غزہ جائےگی ۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کیلئے 2 سال میں8700 ٹرک بھیجے ہیں، اس دوران غزہ کیلئے 16 لاکھ امدادی پیکجز اور اماراتی مہم الفارس الشہم تھری کے تحت 250 قافلے روانہ ہوئے۔
غزہ کی خواتین اور بچوں کےلیے خصوصی امدادی بھی پیکجز بھیجے گئے، غزہ کےلیے 33 ایمبولینسیں اور فیلڈ کلینک فراہم کی گئیں جب کہ امداد میں پانی اور انفرا اسٹرکچر سپورٹ بھی شامل ہے۔ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران اب تک دسیوں ہزار فلسطین جان سے جا چکے ہیں۔عالمی برادری کی کوششوں کے نتیجے میں 10 اکتوبر 2025 سے غزہ میں فائر بندی کا نفاذ ہوا، تاہم اس کے باوجود بھی اسرائیل کی جانب سے وقتاً فوقتاً حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔اکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے لیکن اس حوالے سے امت مسلمہ کو متحد ہوکر باقاعدہ لائحہ عمل طے کرنے اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

وجیہہ تمثیل مرزا  پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
 
 

مزیدخبریں