استنبول مذاکرات ناکام: پاکستان دہشتگردوں اور انکے حامیوں کو ختم کرنے کیلئے کارروائیاں جاری رکھے گا ،عطاتارڑ

09:52 AM, 29 Oct, 2025

استنبول :  پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں چار روزہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات کے دوران کوئی قابلِ عمل حل سامنے نہیں آ سکا اور طالبان نے باوجود پیش کردہ شواہد کے، سرحد پار منظم دہشت گردانہ کارروائیاں روکنے کی کوئی ضمانت نہیں دی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ مذاکرات کا واحد ایجنڈا افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملے روکوانا تھا، مگر افغان وفد بار بار اصل مسئلے سے رخ موڑتا رہا اور کلیدی نکات سے انحراف کرتا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے جو شواہد پیش کیے وہ واضح اور ناقابلِ تردید تھے، تاہم طالبان کی جانب سے اس بارے میں ٹھوس یقین دہانی نہ ملی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے اس کے ساتھ قطر اور ترکیہ کا شکریہ بھی ادا کیا، جنہوں نے مذاکرات کی میزبانی/سہولت فراہم کی اور طالبان رہنماؤں کو پاکستان کے خدشات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے روکنے کی ترغیب دی۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔

ذرائع کے مطابق استنبول میں مذاکرات ناکام رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ افغان طالبان وفد کا مؤقف بار بار کابل سے موصول ہدایات کی بنا پر تبدیل ہوتا رہا، جس سے بات چیت نتیجہ خیز نہ ہو سکی۔ پاکستانی سرکاری حلقوں کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان سے واحد مطالبہ یہ ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی فوری طور پر بند کی جائے  اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی واضح انداز میں کہہ دیا ہے کہ اگر معاملات مذاکرات سے حل نہ ہوئے تو اس کا مطلب کھلی جنگ تک جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں