غزہ: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حکم پر غزہ میں اسرائیلی فوج نے فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 15 فلسطینی شہید اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ رفاہ، خان یونس اور دیر البلاح میں بھی شدید بمباری کی گئی، جس سے شہری علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے حماس پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا گیا۔
حماس نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں ہی لاشوں کی حوالگی کے عمل میں تاخیر کا سبب بنی ہیں۔ حماس کے مطابق اسرائیل کے حملے جاری رہنے کی وجہ سے معاہدے کی تکمیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حماس نے جنگ بندی معاہدے کی پختہ حمایت کرتے ہوئے عالمی ثالثوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ حملے روکے جائیں اور امن قائم ہو سکے۔
عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں میں شہری علاقوں میں زبردست تباہی آئی ہے، جس کے باعث ہزاروں افراد کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ فلسطینی حکام نے ان حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔