دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں کمی کے باوجود کچے کے علاقے زیرِ آب، امراض پھوٹ پڑے

12:54 PM, 29 Sep, 2025

جامشورو :  دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کے بہاؤ میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، تاہم کچے کے علاقے اب بھی سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، جہاں مختلف امراض پھوٹ پڑنے سے مقامی آبادی شدید متاثر ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں 25 ہزار کیوسک کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد پانی کا بہاؤ کم ہو کر 3 لاکھ 87 ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔ حکام کے مطابق کوٹری بیراج پر پانی کی کمی کے باوجود درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

ضلع جامشورو کے کچے کے متعدد دیہات سیلابی پانی کے باعث زیرِ آب ہیں اور وہاں کی صورتحال اب بھی نہایت تشویشناک ہے۔ سیلابی پانی کی وجہ سے مختلف وبائی امراض نے جنم لیا ہے، جس سے متاثرہ علاقوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

ادھر ملتان کی تحصیل جلال پور میں نوراجہ بھٹہ بند کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔ سیلاب سے بند میں پڑنے والا 1,250 فٹ طویل شگاف پُر کر کے اسے مضبوط حفاظتی بند میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق نوراجہ بھٹہ بند کو 3,450 فٹ تک مضبوط کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح حافظ والا میں موٹروے سائیڈ پر 23 ہزار فٹ طویل ڈسٹری بیوٹری ٹریک اور چوتھے نہر پر پڑنے والے 283 فٹ کے شگاف کی بھی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے وزیر آبپاشی اور ٹیم کو ان اقدامات پر شاباش دی ہے۔

نارووال کی تحصیل شکرگڑھ میں دریائے راوی کے سیلابی ریلے کو ایک ماہ گزر چکا ہے، مگر دو درجن سے زائد دیہات میں زندگی اب بھی معمول پر نہیں آ سکی۔سیلابی پانی کی وجہ سے متاثرہ ایم 5 موٹر وے 17ویں روز بھی بند ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موٹروے کی بحالی کا انحصار اطراف میں پانی کی سطح کم ہونے پر ہے۔

مزیدخبریں