اسرائیل اور حماس غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے ’بہت قریب‘، وائٹ ہاؤس

09:11 PM, 29 Sep, 2025

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس غزہ میں جاری جنگ ختم کرنے اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ایک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آج وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے جس میں غزہ جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ پروگرام میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو 21 نکاتی امن منصوبے پر بات کریں گے، جس میں قطر کی قیادت بھی شامل ہے جو حماس کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو معاہدے کے لیے کچھ قربانیاں دینی ہوں گی اور ممکن ہے کہ مذاکرات کے دوران دونوں طرف سے کچھ ناخوشگوار فیصلے کیے جائیں، لیکن یہی مسئلے کے حل کا واحد راستہ ہے۔

ادھر، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو آج وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ ان کا اس سال چوتھا دورہ ہے، جو غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر ہو رہا ہے۔ نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں جمعہ کو اپنی تقریر میں فلسطینی ریاست کے تسلیم کرنے والے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس کے باعث کئی حکام نے ان کی تقریر کا بائیکاٹ کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کے علاقے کو ضم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بہت قریب ہونے کی تصدیق کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق، امریکی امن منصوبے میں یہ شرط شامل ہے کہ معاہدہ طے پانے کے 48 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا، اور اس کے بعد اسرائیل سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا۔ معاہدے کے تحت حماس کے جنگجوؤں کو عام معافی دی جائے گی اور ان کے عسکری ڈھانچے تباہ کیے جائیں گے، جبکہ اسرائیلی فوج آہستہ آہستہ غزہ سے انخلا کرے گی۔ غزہ کو ایک عبوری حکومت کے ذریعے چلایا جائے گا۔

یہ منصوبہ پچھلے امریکی مؤقف سے مختلف ہے، جس میں غزہ کی پوری آبادی کو منتقل کرنے کی تجویز تھی، لیکن اب فلسطینیوں کو ان کے علاقے میں رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور فلسطینی اتھارٹی کے مستقبل کے کردار کو بھی تسلیم کیا گیا ہے، بشرطیکہ وہ اصلاحات کرے۔

مزیدخبریں