وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

11:32 PM, 30 Apr, 2025

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلیفون پر اہم گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی سلامتی اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم نے امریکی وزیر خارجہ کو پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والی صورتحال اور پاکستان کے مؤقف سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے، اور اس جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ اور 152 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران شہباز شریف نے بھارت کے اشتعال انگیز اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حرکتوں کا مقصد پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کا پہلگام واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور اس پر شفاف، غیر جانبدار اور قابلِ بھروسہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اپنائے اور اشتعال انگیز بیانات سے باز رہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت انتہائی افسوسناک ہے، کیونکہ پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا پرامن حل ہی خطے میں دیرپا امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان پاکستان اور امریکہ کے 70 سالہ اشتراکِ عمل پر بھی گفتگو ہوئی، جس میں انسداد دہشت گردی، اقتصادی تعاون اور معدنیات سمیت کئی شعبوں میں شراکت داری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ ایک سال میں اہم اقتصادی اصلاحات کی ہیں اور اب معاشی بحالی کے راستے پر گامزن ہے۔ آخر میں وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔

مزیدخبریں