اپوزیشن اپنا فیصلہ کرے، وزیراعظم 31 جنوری کو استعفیٰ نہیں دیں گے، وزیر خارجہ

05:43 PM, 30 Dec, 2020

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کی جانب سے لانگ مارچ اور استعفوں کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا اپوزیشن اپنا فیصلہ کر لے لیکن وزیراعظم عمران خان کسی صورت میں بھی 31 جنوری کو استعفیٰ نہیں دیں گے۔ تحریک اںصاف سیاسی انتقال کی قائل نہیں ہے اور نہ ہی احتساب سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں کیونکہ دودھ سے دودھ اور پانی کا پانی ہونے کا وقت آ گیا ہے جبکہ خواجہ آصف سیاست کرنے کی بجائے نیب کے سوالوں کے جواب دیں۔ 

شاہ محمود قریشی نے پارٹی کے دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے اور مولانا فضل الرحمان جواب دینے کی بجائے کہتے ہیں کہ دیکھیں گے کہ نیب ان کو کیسے نوٹس بھیجتا ہے کیونکہ ان کے پاس جواب نہیں اسلئے اضطراب پیدا ہو جاتا ہے۔ 

انہوں نے کہا نیب ایک کودمختار ادارہ ہے اور یہ جس قانون کے تحت کام کر رہا ہے اور تحریک انصاف کا تیارہ کردہ نہیں ہے اور نہ ہی چیئرمین نیب کی تعیناتی میں تحریک انصاف کا کوئی عمل دخل نہیں تھا لیکن اب نیب کو تحریک انصاف کے ساتھ جوڑنا غیر مناسب ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو کئی مرتبہ نیب نے سوالات کا جواب دینے کے لئے موقع دیا لیکن وہ نیب کو مطمئن نہیں کر سکے اور اگر وہ منی ٹریل دے دیتے تو شاید ان کی گرفتاری کی نوبت نہ آتی۔ 

وزیر خارجہ نے کہا مجھے آج سمجھ آئی ہے کہ اپوزیشن والے فٹیف قانون سازی کو نیب سے کیوں جوڑ رہے تھے کیونکہ یہ لوگ نیب قوانین میں ترامیم چاہتے تھے لیکن فیٹف قانون سازی کی میٹنگ میں خواجہ آصف ترامیم کا اصرار کرتے رہے کیونکہ یہ لوگ این آر او کی آر میں آگے بڑھنا چاہتے تھے اور اس لئے نیب کی کارروائی کو انتقامی قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا دو استعفے ابھی تک اسپیکر کے پاس پہنچے ہیں اور جب ان دونوں ممبران کو آنے کی دعوت دی تو انہوں نے آنے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ استعفے دیتے بھی ہیں اور پیش بھی نہیں ہوتے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں کہ ان دونوں کے استعفے منظور کر لیے جائیں لیکن دونوں ممبران پیش نہیں ہوں گے تو پھر ان کے استعفے کیسے منظور ہونگے۔ 

پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا قانونی طریقے سے مستعفیٰ شخص کو اسپیکر کے پاس پیش ہونا ہوتا ہے کیونکہ جاوید ہاشمی نے اسپیکر کے سامنے کہا تھا کہ میں مستعفیٰ ہو رہا ہوں اور اب مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی بھی ہمت کریں اور اسپیکر کے پاس آ جائیں۔ انہوں نے کہا پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ صادق اور امین شخص اوپر بیٹھا ہے اور وجہ سے کیس منطقی انجام تک پہنچ رہے ہیں اور مستقبل میں احتساب سے متعلق کیسز میں ریکوری بھی ہو گی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد یہ کینسل ہو جائے گا اور مریم نواز کا باپ بہادر ہے تو پھر انہیں عدالتوں کے سامنے پیش ہونا ہو گا ۔ 

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا قانون کسی کا ماتحت نہیں اور سب قانون کے ماتحت ہیں جس طرح عام شہری ہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی جواب دینا ہو گا۔ یہ لوگ اپنی سیاہ کاریاں چھپانے کیلئے پروپیگنڈا کرتے ہیں اور انہوں نے ناجائز دولت کمائی اور اسے بیرون ملک منتقل کیا۔ 

مزیدخبریں