ٹرمپ کے 'امن بورڈ' کے لیے ایک ارب ڈالر کی پیشکش:سکھ فار جسٹس کا اعلان

09:01 AM, 30 Jan, 2026

کراچی : خالصتان تحریک کی معروف تنظیم 'سکھ  فار جسٹس' (SFJ) نے جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور پنجاب کی آزادی کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی مالی اور سیاسی پیش رفت کی ہے۔ تنظیم کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنوں نے کراچی پریس کلب کے توسط سے جاری بیان میں نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'بورڈ آف پیس' میں شمولیت کے بدلے ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان کر دیا۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے خطاب میں پنجاب کو "جنوبی ایشیا کا گرین لینڈ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے کا جغرافیہ عالمی سلامتی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے امن وژن کے تحت مودی حکومت کو میز پر لائیں اور بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب میں خالصتان ریفرنڈم کی راہ ہموار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک آزاد اور جمہوری خالصتان ہی خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا اسٹریٹجک اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔
بیان میں بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ     صرف گزشتہ ایک ہفتے میں پنجاب سے 8,000 سے زائد سکھ نوجوانوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔    بھارت میں سکھوں کی نسل کشی کا سلسلہ 1950 سے جاری ہے، جس میں آپریشن بلیو اسٹار اور 1984 کے فسادات سیاہ ترین ابواب ہیں۔
پنوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے علاقائی استحکام کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت اس وقت پورے خطے بشمول پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے ایک ایٹمی خطرہ بن چکا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سکھ  فار جسٹس مکمل طور پر پُرامن اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ اب تک دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زائد سکھ ریفرنڈم میں ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری نے مودی حکومت کی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس نہ لیا تو خطے میں تشدد کی لہر پیدا ہو سکتی ہے جس کی ذمہ داری بھارت پر ہوگی۔

مزیدخبریں