برسلز/تہران: یورپی یونین نے ایران کی طاقتور ترین فوجی فورس، ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کو باقاعدہ طور پر 'دہشت گرد تنظیموں' کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایران اور یورپی ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں شدید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب محض ایک فوجی دستہ نہیں بلکہ ایران کا سب سے بااثر ادارہ ہے، جو براہِ راست ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔ یورپی یونین کے اس اقدام کا مقصد تنظیم کے مالیاتی اثاثوں کو منجمد کرنا اور اس کے ارکان پر سفری پابندیاں عائد کرنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے یورپ کی ایک "بڑی سٹریٹجک غلطی" قرار دیا ہے۔ عباس عراقچی نے مطالبہ کیا کہ یورپ اپنا "دوغلا پن" ختم کرے اور آزادانہ فیصلے لے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ اقدام محض امریکا اور اسرائیل کی خوشنودی حاصل کرنے اور ان کی پیروی کے مترادف ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات کے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور یورپ کو اپنی اس غلطی کا احساس ہوگا۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے سے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات اور دیگر سفارتی راستے مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
یورپی یونین کا بڑا فیصلہ: ایرانی پاسداران انقلاب 'دہشت گرد تنظیم' قرار، ایران کا شدید ردعمل
10:22 AM, 30 Jan, 2026