لاہور: ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کی دوسری اننگز میں بیٹنگ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں بیٹرز دباؤ کا سامنا کرنے میں ناکام دکھائی دیے۔
پہلی اننگز میں نصف سنچری بنانے والے امام الحق دوسری اننگز میں زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور کیمار روچ کی گیند پر جلد وکٹ گنوا بیٹھے۔ ان کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھنے لگا کہ پاکستانی بیٹرز دوسری اننگز میں اپنی کارکردگی برقرار رکھنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں امام الحق کی پہلی اننگز میں بیٹنگ اوسط 54.50 رہی، جبکہ دوسری اننگز میں یہ کم ہو کر صرف 3.50 رہ گئی۔ محمد رضوان اور سعود شکیل کی دوسری اننگز کی اوسط میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے بھی اعتراف کیا کہ دوسری اننگز کی بیٹنگ ٹیم کے لیے مسلسل تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ اس مسئلے پر کام کیا جا رہا ہے، لیکن دباؤ بڑھنے پر ٹیم اپنی منصوبہ بندی پر عمل درآمد نہیں کر پاتی۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کھیلنے والی ٹیموں میں پاکستان کی دوسری اننگز کی اوسط 19.90 رہی، جو اس عرصے میں سب سے کم ہے۔ اسی مدت میں قومی ٹیم 14 میں سے 10 ٹیسٹ میچ ہار چکی ہے، جن میں بیرون ملک مسلسل آٹھ شکستیں بھی شامل ہیں۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دوسری اننگز میں بیٹنگ کا معیار بہتر نہ ہوا تو غیر ملکی دوروں میں پاکستان کے لیے کامیابی حاصل کرنا بدستور ایک بڑا چیلنج رہے گا۔