بزنس کمیونٹی کے مسائل کا حل حکومت کی قربت سے ممکن ہے، میاں عامر محمود

05:37 PM, 30 Jul, 2026

اسلام آباد: بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ کاروباری طبقے کا سب سے بڑا مسئلہ حکومت کا بزنس کمیونٹی کے قریب نہ ہونا ہے۔ اگر حکمران درمیان میں رہ کر مسائل سنیں گے تو ان کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب انتظامی لحاظ سے ایک بہت بڑا صوبہ ہے جبکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن آبادی کے تناسب سے انتظامی یونٹس میں اضافہ نہیں کیا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف علاقوں کی انتظامی حیثیت تبدیل کی گئی، بہاولپور کو پنجاب میں شامل کیا گیا جبکہ خیرپور کو سندھ کا حصہ بنا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر صوبے نے اپنی حدود میں تبدیلیاں کیں، تاہم اب ضرورت ہے کہ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس قائم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آبادی 13 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ دنیا جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے پاکستان اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہا۔ ملک میں 2 کروڑ 50 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 40 فیصد بچوں کو مناسب خوراک میسر نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بچوں کو خوراک اور تعلیم نہیں ملے گی تو مستقبل کی افرادی قوت کیسے تیار ہوگی۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں اب بھی پولیو کا خاتمہ نہیں ہو سکا، جس کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے انتظامی یونٹس میں اضافہ کیا اور اس کے نتیجے میں ترقی کے مواقع بڑھے۔ پاکستان میں بھی نئے صوبوں کے قیام کے لیے مختلف تحریکیں چلتی رہی ہیں، تاہم نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر بنائے جانے چاہئیں۔

میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس بڑھانے سے اخراجات میں اضافہ ضروری نہیں، بلکہ بہتر انتظام کے ذریعے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ زیادہ انتظامی یونٹس قائم ہونے سے صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات عوام تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے سابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب بہترین کام کیا۔

مزیدخبریں