کشمیر کے فیصلے کشمیر کی منتخب اسمبلی کرے گی:بلاول بھٹو زرداری

06:44 PM, 30 Jul, 2026

مظفر آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفر آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کشمیر میں امن، انصاف اور خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کے تمام جائز حقوق دلوانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کے فیصلے کشمیر کی منتخب اسمبلی کرے گی، جبکہ حقِ حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات کے فیصلے ووٹ کے ذریعے ہوں، کسی اور طریقے سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے اپنا وژن عوام کے سامنے رکھنے آئے ہیں اور کشمیر کو ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ خطہ بنانا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ کی چوری کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر انتخابات شفاف ہوئے ہیں تو تمام ریکارڈ سامنے لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2 اگست سے قبل تمام انتخابی شکایات کی کھلی سماعت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد آئینی کنونشن بلایا جائے گا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیریوں کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں آبزرور کا اسٹیٹس دلوانے کے لیے کوشش کریں گے تاکہ فیصلہ ساز اداروں میں ان کی آواز شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر کو پنجاب یا سندھ کی طرز پر نہیں بلکہ ایک مضبوط اور بااختیار خطے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مظفر آباد کے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کشمیری مہاجرین ریاست، تاریخ اور تحریک کا اہم حصہ ہیں، انہیں حقیقی نمائندگی دلوائی جائے گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں قائم کیے گئے میڈیکل کالجز اور جامعات کے قیام میں پیپلز پارٹی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جن اداروں میں مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں وہاں کشمیر کی نمائندگی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انتخابی مینڈیٹ واپس نہ کیا گیا تو وفاقی حکومت کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی کارکنان سے اپیل کی کہ وہ بائیکاٹ کی سیاست ترک کریں اور احتجاج کے لیے قائم کمیشن کے عمل کو قبول کریں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاست پاکستان سے ٹروتھ کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرپور انتخابات سے متعلق ثبوت اور ویڈیوز الیکشن کمیشن کو فراہم کیے گئے، تاہم اس کے باوجود نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

مزیدخبریں