بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، سندھ طاس معاہدے کی معطلی بے معنی ہے: خرم دستگیر

04:41 PM, 30 Jun, 2026

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق اس کے اقدامات عالمی اصولوں کے منافی ہیں۔

اپنے بیان میں خرم دستگیر نے کہا کہ بھارت نے 2025 سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کی ہیں اور معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، تاہم ایسے اقدام کی قانونی حیثیت نہیں بنتی کیونکہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مضبوط اور لچکدار معاہدہ تھا، جس نے کئی دہائیوں تک دونوں ممالک کے درمیان آبی معاملات کو منظم رکھا۔ ان کے مطابق معاملہ صرف معاہدے کی معطلی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے بعد دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔

خرم دستگیر نے کہا کہ دریاؤں کے پانی کو روکنا یا اسے دباؤ کے لیے استعمال کرنا عالمی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور پاکستان اپنے حصے کے پانی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مشرقی دریاؤں میں بغیر اطلاع پانی چھوڑنے اور پانی روکنے کے اقدامات سے پاکستانی عوام کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال ہونے سے روکا جائے۔

خرم دستگیر نے کہا کہ بھارتی بیانات اور پالیسی مؤقف کا حقائق کی بنیاد پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنے آبی حقوق کے تحفظ اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

مزیدخبریں