سکرین ٹائم GEN Zکے لیے بہتر یا نقصان دہ؟

04:56 PM, 30 Jun, 2026


سکرین ٹائم  جینزی کے لیے بہتر یا نقصان دہ دونوں ثابت ہو سکتی ہیں۔ اور اس چیز کا اندازہ اس طرح سے لگایا جا سکتا ہے کہ کس قسم کی سکرین کو کتنی دیر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا صرف ضرورت کے لیے سکرین کا استعمال کیا جا رہا ہے یا سکرین کا استعمال بنا ضرورت صرف ٹائم پاس کے لیے کیا جا رہا ہے۔ آج کل کی نسل کے لیے سکرین ایک کھلونا بن کر رہ گئی ہے۔ اور اس میں غلطی صرف نوجوان نسل کی نہیں بلکہ والدین کی بھی ہے۔
 پچھلے دور میں جہاں بچوں کو ایسی چیزوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا تھا آج اُسی کے برعکس مائیں اپنی جان چھڑانے کے لیے یا کام کی مصروفیت کے باعث بچوں کو موبائلز دے دیتی ہیں اور یوں سمجھتی ہیں کہ بلا سر سے ٹل گئی۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کی بلا ٹلی نہیں بلکہ اصل بلا تو اس وقت شروع ہو جاتی ہے جب ان سکرینز کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہونے لگتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سکرین ٹائم کوئی غلط چیز نہیں، سکرین ٹائم کا استعمال کتنا وقت کیا جا رہا ہے یہ بات اہم ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز کے فوائد اور نقصانات ہیں۔
 فرق صرف اتنا ہے کہ کس چیز کا استعمال کس طرح سے کیا جا رہا ہے اور کس نیت یا ارادے سے کیا جا رہا ہے۔ اگر ہم سکرین ٹائم کے فوائد کی بات کریں تو ان سکرینز نے آج کل کی نوجوان نسل کو اتنا ایڈوانس کر دیا ہے کہ جو چیزیں بچہ ماں کی گود میں سیکھتا تھا آج وہ ان سکرینز کے ذریعے سیکھ رہا ہے۔ اور جو چیزیں پہلے بچہ نو، دس برس کی عمر میں جاننے لگتا تھا وہ چیزیں آج کل پانچ، چھ سال کا بچہ باآسانی سر انجام دینے لگتا ہے۔ اوران سکرینز نے بچوں کو ضرورت سے زیادہ بڑا کر دیا ہے۔ لیکن جہاں سکرینز کے فوائد نظر آتے ہیں وہیں اس کے نقصانات بھی ہیں جو نوجوان نسل کو نظر نہیں آتے اور نہ ہی وہ سننا پسند کرتا ہے مگر اس نوجوان نسل کی عادت ہے کہ جب پانی سر سے گزر جائے تب یہ نوجوان نسل گلہ شکوہ کرتی ہے کہ ہمیں وقت پر سمجھایا نہیں گیا یا ہماری رہنمائی نہیں کی گئی۔ 
آج کل کے بچے جن مسائل کا سب سے زیادہ شکار نظر آتے ہیں ان میں نظر کا مسئلہ سب سے زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ بچے ضرورت سے زیادہ اپنی نظریں سکرینز پر ٹکائے رکھتے ہیں جن سے بعض بچوں کی بینائی متاثر ہوتی ہے اور بعض بہت چھوٹی عمر میں نظر کی کمزوری کے باعث عینک لگوا بیٹھتے ہیں اور آج کل سکرینز پر جن سوشل میڈیا ایپس کا استعمال دیکھنے کو مل رہا ہے ان پر ایسی چیزیں اور معلومات دکھائی جاتی ہیں جو  ہر عمر کے نو جوان کے لیے نہیں ہوتی اور ان سکرینز کی رسائی آج کل بالکل محدود نہیں رہی جس کے باعث ایسے مسائل جنم لیتے ہیں جو والدین کے لیے مشکلات کی وجہ بنتے ہیں اور نوجوان نسل کو صحت مند زندگی کی طرف راغب نہیں ہونے دیتے۔ ان سکرینز نے آج کل کی زندگیوں کو نا صرف مشکل بنایا ہے بلکہ جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر چیز کی آسان رسائی سے اس کا ناجائز فائدہ نا اٹھائیں اور اس کو صرف اس حد تک استعمال کریں جہاں تک وہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے .

تعارف:بلاگر(سائرہ جبار)  کمیونیکیشن سٹڈیز کی طالبہ ہیں اور سماجی امور پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ تعلیمی امور کے ساتھ ساتھ لکھنے لکھانے کا بھی شوق ہے اورمختلف سماجی امور پر طبع آزمائی کرتی رہتی ہیں۔

مزیدخبریں