عالمی معیشت نشانے پر: آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک ماہ مکمل، تیل کی قیمتیں 200 ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ

02:08 PM, 30 Mar, 2026

نیویارک / لندن : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے، جس نے عالمی تیل مارکیٹ میں تاریخ کا بدترین بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ سپلائی چین میں اس طویل تعطل کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح کو چھونے کے قریب ہیں، جس سے عالمی معیشت کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
معروف امریکی معاشی جریدے ’’بلوم برگ‘‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ توانائی کے اس بحران سے عالمی سطح پر اقتصادی ترقی (GDP) کی شرح میں خطرناک حد تک کمی کا اندیشہ ہے۔ایشیائی صنعتی ممالک سے لے کر یورپی ریاستوں تک ایندھن کی شدید قلت کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔
ماہرینِ توانائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی فوری بحال نہ ہوئی تو  یورپ کو آئندہ چند ہفتوں میں ڈیزل کے بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کا پورا نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) نے اپنے ہنگامی ذخائر سے مزید تیل مارکیٹ میں جاری کر دیا ہے تاکہ قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کو روکا جا سکے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے نہ صرف توانائی کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود بحری راستوں کا نہ کھلنا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا ایک طویل مدتی معاشی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کا اثر ہر عام و خاص پر پڑے گا۔

مزیدخبریں