افغانستان پھر سے دو راہے پر…؟؟

10:53 AM, 30 Sep, 2021

جب سے امریکہ افغانستان سے گیا ہے طالبان کے کچھ دعووں کے بعد ان کے بارے میں کچھ اچھی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں۔ باقی دنیا کی طرح ہم نے بھی کچھ امیدیں باندھ لی تھیں کہ اب شاید طالبان تبدیل ہو گئے ہیں۔ یہ بھی امید ہو چلی تھی کہ افغان سوسائٹی کے تمام دھڑوں پر مشتمل وسیع البنیاد حکومت بننے سے وہاں بھی امن ہو گا۔ سب سے بڑھ کر تمام شہریوں بشمول خواتین کو بھی تعلیم سمیت ہر شعبے میں اپنی مہارت دکھانے کے علاوہ حکومت میں بھی جائز حصہ ملے گا۔ لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے یہ سب باتیں سراب لگنے لگی ہیں۔ طالبان لیڈر کے کل کے بیانات اور آج کے عمل میں تضاد نظر آ رہا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ گہرا ہو رہا ہے۔ کبھی خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند اور کبھی ملازمتوں کے مواقع بھی محدود یا مسدود۔ سب سے بڑھ کر تمام افغان دھڑوں کی حکومت میں شمولیت کے بارے بھی ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جس سے خاکم بدہن لگتا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دوراہے پر کھڑا نہ ہو جائے۔
طالبان نے موجودہ آئین کو یکسر مسترد کر دیا ہے لیکن ابھی تک ملک کو چلانے کے لیے آئین اور نظام حکومت کا بھی تعین نہیں کیا جا سکا۔ طالبان کے اندر بھی حکومتی عہدوں کی چھینا جھپٹی کے حوالے سے اختلافات اور ٹکراؤ کی خبریں آ رہی ہیں۔ اس وقت افغانستان میں کوئی سسٹم ہے، انفرا سٹرکچر ہے، پولیس ہے نہ صحت کا نظام اور شہری سہولتوں کا نظام بھی عنقا ہے۔ کھانے پینے کی اشیا اور دوائیوں کی بھی قلت ہے۔ اقوام متحدہ بھی اس حوالے سے بارہا خبردار کر چکا ہے۔ طالبان کو سیاسی معاملات کے ساتھ ساتھ اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے تھی تا کہ نظام زندگی چلتا نظر آتا۔ لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے افغان عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
دوسری طرف امریکہ بھی بجائے افغان عوام کی مدد کے ان کی مددکرنے والے ممالک کے خلاف پابندیاں اور اس حوالے سے نئی قانون سازی پر توجہ دے رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان بارہا اس طرف توجہ دے چکے ہیں افغانستان کو تنہا چھوڑنا دانشمندی نہ ہو گی اور اگر ماضی کی غلطی دہرائی گئی تو خدانخواستہ ایک اور المیہ جنم نہ لے لے۔
دنیا پہلے ہی طالبان کے حوالے سے مخمصے کا شکار تھی اور ان کے حالیہ اقدامات نے جس میں سر عام پھانسیاں، عورتوں کے حوالے سے کچھ پابندیاں اور وسیع البنیاد حکومت کی طرف پیش قدمی نہ ہونے جیسے اقدامات سے مایوسی پھیل رہی ہے۔ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغانستان میں وار لارڈز کی متوازی حکومت رہی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں سے کچھ نے طالبان کا چوغا اوڑھ رکھا ہے۔ البتہ ایک بات خوش آئند ہے کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں افراتفری اور سول وار کے جس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا وہ نہ ہوا۔ لیکن جوں جوں وسیع البنیاد حکومت کے قیام اور نظام حکومت کے فیصلے میں تاخیر ہو رہی ہے اس سے ابہام پیدا ہو رہا ہے اور خطرہ ہے کہ خدانخواستہ افغانستان ایک بار پھر ماضی کی طرف نہ لوٹ جائے۔
پڑوسی ممالک کے علاوہ اقوام عالم کو بھی چاہیے کہ وہ افغانستان کو ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر ماضی کو دیکھا جائے تو افغانستان کے امن سے پوری دنیا کا امن جڑا ہوا ہے۔ گو کہ ماضی کے تجربات کے پیش نظر پاکستان غیر جانبدار رہتے ہوئے افغان عوام کی مدد کے لیے پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا ہے۔ البتہ دیگر پڑوسی ممالک ابھی تک خاموش ہیں۔ گو کہ پاکستان کے بعد چین بھی افغانستان کی مدد کے سلسلے میں آگے آ رہا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چین افغانستان کے لیے پاکستان کی نسبت سے کسی حد تک نیا ہے اور اس کا کلچر، 
زبان اور افغان عوام سے تعلق بھی اتنا گہرا نہیں۔ البتہ چین کا افغانستان کی تعمیر نو میں حصہ لینا یقینا خوش آئند ہے۔ روس البتہ انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر گامزن ہے۔ بھارت کا ذکر کیا کرنا اس کا تو کام ہی شر پھیلانا ہے۔ پڑوسی ممالک کے علاوہ پوری دنیا کو چاہیے کہ افغانستان کی تعمیر نو میں حصہ لیں۔ طالبان کو بھی چاہیے کہ ایسے متنازع فیصلے خاص طور پر انسانی حقوق کے حوالے سے ایسے اقدامات نہ کر یں جس سے ان پر انگلیاں اٹھیں۔ خواتین کے حوالے سے سعودی عرب کا نظام اپنائیں جہاں ان پر ہر شعبہ زندگی کھلا ہے۔
طالبان کو بھی چاہیے کہ جو بھی نظام حکومت انہیں مناسب لگتا ہے اسے مکمل اتفاق رائے سے اپنا لیں اور اس میں دیر نہ کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک ملک کی نئے سرے سے تعمیر کرنی ہے اور ابھی انہیں بہت کچھ کرنا ہے۔ لیکن سب سے پہلے ایک وسیع البنیاد حکومت کا قیام ان کی ترجیح ہونی چاہیے۔ دوسرے متنازع معاملات سے دور رہ کر اپنے ملک کی تعمیر نو پر توجہ دیں۔ اور یہ ہدف اس وقت تک حاصل نہ ہو گا جب تک افغانستان کے تمام فریق ایک پیج پر نہ ہوں گے۔ اگر طالبان متنازع معاملات میں الجھے رہے اور وسیع ا لبنیاد حکومت نہ بنا سکے تو پھر دنیا بھی ان سے ہاتھ کھینچنے پر مجبور ہو گی جس سے ایک انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہ افغانستان، افغان عوام، پڑوسی ممالک اور اقوام عالم کے لیے بے حد نقصان دہ ہو گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی دہشت گرد داعش اور تحریک طالبان پاکستان کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے ہیں۔ اقوام عالم کو افغانستان کی تعمیر نو کے علاوہ ان دہشت گرد گرپوں کو کچلنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ یہ دہشت گرد گروپ افغانستان کے علاوہ پاکستان اور دنیا کے لیے بھی دہشت کی علامت ہیں۔ اگر خدانخواستہ افغانستان میں امن نہ ہوا تو یہ دہشت گرد گروپ پھر سے سر اٹھا لیں گے۔ اس کا براہ راست اثر تو پاکستان اور افغانستان پر پڑے گا لیکن ماضی کے تجربے کے پیش نظر اقوام عالم کے لیے بھی خطرہ بدرجہ اتم موجود رہے گا۔
طالبان کو بھی اپنے ملک کی تعمیر نو، ایک پُر امن افغانستان اور ان دہشت گرد گروپوں سے چھٹکارے کے لیے اپنی صفیں درست کرنا ہوں گی اور اپنے اختلافی معاملات کو ایک طرف رکھ کر وعدے کے مطابق ایک روشن افغانستان کے لیے ایک وسیع البنیاد حکومت کی بنیاد رکھیں اور معاشرے کے ہر طبقہ کو ملک کی تعمیر نو میں حصہ ڈالنے کی اجازت دیں اور اپنے دوست ممالک کو اس حوالے سے مایوس نہ کریں۔ ورنہ دشمن تو دانت نکالے بیٹھا ہے۔
قارئین اپنی رائے اس نمبر 03004741474 پر وٹس ایپ کر سکتے ہیں۔

مزیدخبریں