فلسطین میں امن فوج بھیجنے کا فیصلہ اعلیٰ قیادت کرے گی، امریکا کے امن منصوبے میں پاکستان کی تجاویز شامل نہیں: اسحٰق ڈار

"ہم نے بنیادی نکات چھیڑے بغیر امن منصوبے میں ترامیم تجویز کیں، فلسطین پر سیاست نہیں ہونی چاہیے:نائب وزیراعظم کی وضاحت

07:59 PM, 30 Sep, 2025

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ فلسطین میں مجوزہ امن منصوبے کے تحت امن فوج بھیجنے کا فیصلہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی مسودے میں پاکستان کی ترامیم شامل نہیں کی گئیں، تاہم پاکستان نے بنیادی نکات چھیڑے بغیر تجاویز دی تھیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ انڈونیشیا نے فلسطین میں 20 ہزار فوجی تعینات کرنے کی پیشکش کی ہے، اور امید ہے کہ پاکستان بھی اس حوالے سے جلد فیصلہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے امن منصوبے کو سبوتاژ کیے بغیر، چند پہلوؤں پر تجاویز دیں جو بعد ازاں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کو بھیجی گئیں۔

اسحٰق ڈار کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں فلسطین کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایا، جس پر فلسطین، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب، انڈونیشیا، ترکیہ، یو اے ای اور دیگر مسلم ممالک نے غزہ میں سیزفائر، انسانی امداد، اسرائیلی انخلا اور دو ریاستی حل پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جسے فلسطینی اتھارٹی نے بھی سراہا۔

نائب وزیراعظم نے امن منصوبے پر ہونے والی تنقید کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا، "کچھ لوگ فلسطین امن منصوبے پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ وہاں لوگ مرتے رہیں؟ کیا بچوں کا خون بہتا رہے اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں؟"

انہوں نے اپیل کی کہ ایسے انسانی مسئلے پر سیاست نہ کی جائے۔ "یہ وقت سیاست کا نہیں، امت مسلمہ کے اتحاد اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا ہے۔اسحٰق ڈار نے بتایا کہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسلم ممالک کے سربراہان کے درمیان خفیہ ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میٹنگز کو "کلاسیفائیڈ" رکھا گیا، پیغامات کا تبادلہ ہارڈ کاپی کے ذریعے ہوا اور کسی قسم کی ڈیجیٹل دستاویزات استعمال نہیں کی گئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان سمیت 8 ممالک کی جانب سے امن منصوبے کے دو مسودے تیار کیے گئے، جن میں سے ایک پر اتفاق رائے کے بعد امریکی فریق کو جمعہ (26 ستمبر) کی شب پیش کر دیا گیا۔ بعد ازاں سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے ذریعے رابطے جاری رہے اور پاکستان کی ترامیم کو قبول کیا گیا۔

مزیدخبریں