پنجاب میں شدید بارشیں ، دریاؤں میں سیلاب: لاکھوں افراد متاثر، ریسکیو آپریشن جاری

09:37 AM, 31 Aug, 2025

لاہور :  پنجاب کے مختلف شہروں میں مسلسل موسلادھار بارش اور دریاؤں میں خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے پانی نے صوبے کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ دریائے راوی، چناب، ستلج اور سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے باعث لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں، سینکڑوں دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو گئی ہے۔

لاہور، چنیوٹ، گجرات، نارووال، ننکانہ صاحب، ملتان، وہاڑی، چیچہ وطنی، اوکاڑہ، پاکپتن اور ڈیرہ غازی خان سمیت متعدد اضلاع میں شدید بارشوں سے شہری زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے وبائی امراض کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ کئی مقامات پر بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق:

دریائے چناب پر 1169، راوی پر 478، اور ستلج پر 391 مواضعات متاثر ہو چکے ہیں۔
صرف جھنگ میں 180 دیہات ڈوب چکے ہیں۔
دریائے چناب سے 8 لاکھ کیوسک سے زائد کا ریلا ملتان میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔
دریائے راوی میں چیچہ وطنی کے قریب 1.7 لاکھ کیوسک سے زائد کا ریلا گزر رہا ہے۔
ہیڈ بلوکی اور گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
چناب اور راوی کے سیلاب سے جھنگ، سیالکوٹ، وزیرآباد، چنیوٹ، ملتان، وہاڑی، پاکپتن اور بہاولنگر سمیت دیگر علاقوں میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ کئی خواتین اور بچے کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ گھروں کو خالی کرنے سے انکار کر رہے ہیں، جس سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

ریسکیو ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ کشتیوں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ پاک فوج، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی کے اہلکار مسلسل متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو متاثرین کی جانب سے فوری امداد اور دورہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ محکمہ تعلیم نے پاکپتن اور عارف والا کے اسکول یکم ستمبر سے بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن میں دریائے سندھ اور ستلج کے سیلاب سے 5 لاکھ 14 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی اراضی متاثر ہو چکی ہے۔ کسان شدید نقصان کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ مال مویشی بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہو چکے ہیں۔حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ سے تعاون کریں، افواہوں پر کان نہ دھریں، اور ایمرجنسی میں 1122 یا قریبی ریسکیو سنٹر سے رابطہ کریں۔

مزیدخبریں