دی ہیگ/اسلام آباد: عالمی مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اقدام کو مسترد کردیا ہے۔
دی ہیگ میں قائم عالمی مستقل ثالثی عدالت نے متفقہ فیصلے میں قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے پیش کی گئی کوئی بھی وجہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا قانونی جواز فراہم نہیں کرتی۔ عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذالعمل ہے اور اس کے تحت بھارت کی ذمہ داریاں برقرار ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کرسکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی قانونی حیثیت برقرار ہے اور اس کی شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔
فیصلے کو پاکستان کے مؤقف اور بین الاقوامی قانون کی اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے سے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو قانونی تقویت حاصل ہوئی ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیرجانبدار ماہر جولائی 2027 تک یہ فیصلہ کرے گا کہ ہمالیائی خطے میں پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق ہے یا نہیں۔
فیصلے کے بعد سندھ طاس معاہدے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع میں اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
بھارت سندھ طاس معاہدہ ختم یا معطل نہیں کرسکتا، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ
05:58 PM, 31 Aug, 2026