کیلیفورنیا: واٹس ایپ نے آن لائن فراڈ اور جعلی پیغامات کی روک تھام کے لیے نیا ’اسکیم الرٹ‘ فیچر محدود اینڈرائیڈ بیٹا صارفین کے لیے جاری کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس نئے فیچر پر کام شروع کیے جانے کی اطلاعات رواں سال جون میں سامنے آئی تھیں، جبکہ میٹا نے حال ہی میں اس کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات بھی شیئر کی تھیں۔ واٹس ایپ کی جانب سے فیچر کی عام دستیابی کی حتمی تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی، تاہم بیٹا ورژن میں اس کی فراہمی سے عندیہ ملتا ہے کہ جلد اسے دیگر صارفین کے لیے بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ WABetaInfo کے مطابق ’اسکیم الرٹ‘ فیچر اینڈرائیڈ کے واٹس ایپ بیٹا ورژن 2.26.34.1 میں دیکھا گیا ہے۔
نئے فیچر کا مقصد صارفین کو ایسے نامعلوم نمبروں یا افراد سے موصول ہونے والے پیغامات کے بارے میں متنبہ کرنا ہے جو ممکنہ طور پر فراڈ یا کسی اسکیم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ فیچر کی خاص بات یہ ہے کہ پیغام بھیجنے والے کو اس بات کی اطلاع نہیں ہوگی کہ وصول کنندہ کے پاس اسکیم الرٹ فعال ہے۔
وارننگ موصول ہونے کے بعد صارف کے پاس مختلف اختیارات ہوں گے۔ وہ متعلقہ شخص کو قابلِ اعتماد قرار دے سکتا ہے، جبکہ مشکوک اکاؤنٹ کو بلاک یا رپورٹ بھی کیا جا سکے گا۔ قابلِ اعتماد قرار دینے کی صورت میں صارف کو چیٹ کے آخری پانچ پیغامات واٹس ایپ کے ساتھ شیئر کرنے کا آپشن بھی دیا جا سکتا ہے، تاکہ کمپنی فیچر کی کارکردگی کو مزید بہتر بنا سکے۔
اسکیم الرٹ فی الحال ایک اختیاری فیچر ہے اور صارف کو اسے خود فعال کرنا ہوگا۔ اینڈرائیڈ فون پر اسے Settings > Account میں جاکر آن کیا جا سکتا ہے۔
میٹا کے مطابق یہ فیچر صارف کے موبائل ڈیوائس پر موجود مشین لرننگ ماڈل کی مدد سے ممکنہ اسکیم پر مبنی پیغامات کی نشاندہی کرتا ہے اور اس حوالے سے صارف کو خبردار کرتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اسکیم کی شناخت کے لیے پیغامات کا مواد ڈیوائس سے باہر نہیں بھیجا جاتا اور نہ ہی یہ پیغامات خودکار طور پر واٹس ایپ، میٹا یا کسی تیسرے فریق کو رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ میٹا کے مطابق ’اسکیم الرٹ‘ کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے تاکہ صارفین کو ممکنہ آن لائن فراڈ سے تحفظ کی اضافی سہولت فراہم کی جا سکے۔