دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب: بلوچستان میں بی ایل اے کا 'آپریشن ہیروف 2.0' ناکام

11:26 AM, 31 Jan, 2026

کوئٹہ/بلوچستان: بدھ کے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کالعدم بی ایل اے (BLA) کی جانب سے ’ہیروف 2.0‘ کے نام سے شروع کی گئی دہشت گردانہ مہم کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں نے متعدد مقامات پر بیک وقت حملوں کی کوشش کی، تاہم فورسز نے جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو ہلاک کرتے ہوئے چند ہی گھنٹوں میں صورتحال پر مکمل قابو پالیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ بزدلانہ حملے ’فتنۃ ہندوستان‘ (FAH) کے نیٹ ورک کی جانب سے کیے گئے تھے۔ مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
 دہشت گردوں نے پولیس کی گاڑی کو کوئٹہ سریاب روڈ پر نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس پر پولیس اور ایف سی (FC) کے جوانوں نے فوری جوابی فائرنگ کر کے چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔    نوشکی اور دالبندین میں  ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر فائر ریڈ اور دھماکوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی، جسے الرٹ دستوں نے بھاری جوابی کارروائی سے پسپا کر دیا اور علاقے کو کلیئر کرایا۔
     قلات میں ڈپٹی کمشنر آفس اور پولیس لائنز پر حملے ناکام بنائے گئے۔ اس کے علاوہ پسنی، گوادر، مستونگ اور خاران میں بھی سیکیورٹی پوسٹوں پر حملوں کو فورسز نے پوری قوت سے پسپا کیا۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کی قیادت (بشیر زیب، اللہ نذر اور ہربت یار مری) بیرون ملک محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھ کر بلوچستان کے نوجوانوں کو خودکش حملوں اور خطرناک کارروائیوں میں ایندھن کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ناکام حملوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو بی ایل اے اور اس کے ہمنوا گروہ (BYC اور BNM) اکثر ’جبری گمشدگیوں‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ عالمی سطح پر غلط بیانی کی جا سکے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، پورے صوبے میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور کسی بھی تزویراتی تنصیب (Strategic Installation) کو نقصان نہیں پہنچا۔ حالیہ دنوں میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 50 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد، یہ حملے محض بوکھلاہٹ اور اپنی شکست چھپانے کی ایک ناکام کوشش ثابت ہوئے ہیں۔پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والے ان نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزیدخبریں