فیصل آباد : فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سانحہ 9 مئی کے دو مقدمات میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت 168 افراد کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائیں۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے الزام میں تھانہ سول لائن میں درج مقدمہ نمبر 832 میں 185 ملزمان میں سے 108 کو سزا دی، جبکہ 77 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ عدالت کے اندر اور باہر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
فیصلے کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو 10 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ اسی طرح سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
دوسری جانب سابق وفاقی وزیر فواد چودھری اور رکن قومی اسمبلی زین قریشی کو بری کیا گیا ہے۔ علی افضل ساہی کو تھانہ سول لائن کے مقدمے میں 3 سال قید کی سزا دی گئی ہے جبکہ خیال کاسترو بھی بری ہونے والوں میں شامل ہیں۔
تھانہ غلام محمد آباد کے مقدمہ نمبر 1277 میں 66 ملزمان میں سے 60 کو سزا سنائی گئی جبکہ 6 کو بری کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ 9 مئی کے مقدمات کی کارروائی مکمل کرکے جلد از جلد فیصلے صادر کریں، اور اس حوالے سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن اگلے ماہ ختم ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں سرکاری اور عسکری اداروں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد مختلف شہروں میں انسداد دہشتگردی کے مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں فیصل آباد کے مقدمات پولیس کی مدعیت میں چلائے جا رہے ہیں۔