اچھی حکمرانی کے بغیر ترقی ممکن نہیں،بلوچستان کا حل گڈ گورننس میں ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

03:24 PM, 31 Jul, 2026

راولپنڈی :ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری  نے کہا کہ اچھی حکمرانی کے بغیر ملک کے معاملات حل نہیں ہوسکتے، عوام حکومت سے مطمئن ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بہتر حکمرانی کیلئے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اس پر غور ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان باشعور ہے اور اسے ریاست کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست موجود ہے تو سیاست، شناخت اور دیگر معاملات موجود ہیں، جبکہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت وفاداری ریاست کے ساتھ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان کے مطابق بلوچستان میں 31 ہزار 80، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 جبکہ دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 آپریشنز کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں 819 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانی قربانیاں بھی ہوئیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں ہتھیار ڈالنا ہوں گے یا ریاست ان کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف سکیورٹی نہیں بلکہ گورننس، ترقی اور ریاستی رٹ سے بھی متعلق ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو مختلف ذرائع سے مدد حاصل ہوتی ہے اور ریاست ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے سمگلنگ کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑی مقدار میں غیر قانونی سامان اور منشیات ضبط کی گئی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم کمیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے موصول ہونے والی متعدد درخواستوں میں افراد کی شناخت ہوئی، جبکہ بعض افراد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر مختلف اعداد و شمار پیش کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ریاستی ادارے حقائق سامنے لانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران بیرونی معاونت اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف چلنے والے بیانیوں کا مقابلہ حقائق کے ذریعے کیا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، پانی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو بااختیار بنانا ضروری ہے اور سکیورٹی کے ساتھ ساتھ ترقی بھی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی کیلئے گڈ گورننس بنیادی شرط ہے اور نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات مذہب، تاریخ اور جذباتی وابستگیوں پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے معاہدوں اور وعدوں پر قائم رہنے والا ملک ہے۔

نیوز کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے شہداء کو پاک فوج کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج فلسفہ شہادت کے پیچھے کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، جبکہ ریاستی ادارے امن و استحکام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ہے تو سیاست ہے، جان ہے تو پہچان ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔

مزیدخبریں