دہشت گردانہ پالیسیوں کا انجام: افغان طالبان عالمی سطح پر اکیلے رہ گئے، جون میں دورہ برسلز پر 82 بین الاقوامی تنظیموں کا شدید ترین احتجاج!

03:56 PM, 31 May, 2026

برسلز / اسلام آباد:اپنے متعصبانہ اقدامات، سخت گیر پالیسیوں اور انتہا پسندانہ سوچ کے باعث افغان طالبان کی غیر منتخب رجیم عالمی سطح پر شدید ترین تنہائی کا شکار ہو چکی ہے۔ دنیا بھر کے سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں طالبان کی غاصبانہ روش کے خلاف غصے کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے جس نے یورپی یونین کے ایوانوں میں بھی کھلبلی مچادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (FIDH) سمیت دنیا کی 82 دیگر بااثر اور بین الاقوامی تنظیموں نے افغان طالبان کے وفد کے جون میں ممکنہ دورہ برسلز پر شدید ترین تشویش اور گہرے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ عالمی تنظیموں نے یورپی حکام کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اس غاصب اور غیر منتخب گروہ کو کسی بھی قسم کا سفارتی پروٹوکول یا عالمی اسٹیج فراہم کرنا افغان عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہوگا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی مشترکہ اعلامیے میں دوٹوک موقف اختیار کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم افغانستان کے عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں ہے۔ بیان میں سخت اور جارحانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب افغان عوام، بالخصوص خواتین کے تمام بنیادی حقوق سلب کیے جا چکے ہیں، طالبان کو یورپی سرزمین پر سیاسی یا سفارتی اسپیس دینا افغانستان کے کروڑوں مظلوم لوگوں کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبانے اور ان کی آزادی پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

عالمی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور یورپی یونین طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی روابط قائم کرنے سے فوری گریز کرے اور اس دہشت گردانہ سوچ کی حامل رجیم کو عالمی سطح پر مکمل طور پر تنہا رکھا جائے، کیونکہ ان کو تسلیم کرنا انسانیت کے خلاف جرائم کو ہوا دینے کے برابر ہوگا۔

مزیدخبریں