خوف کی لہر

08:53 AM, 28 Dec, 2022

پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیاسی بحران کا سامنا تو ہے ہی مگر دوسری جانب دیکھیں تو ملک سکیورٹی بحران کا بھی شکار ہوتا چلا جا رہا ہے پچھلے چند ماہ سے پہلے دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں دہشت گردی کے واقعات بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے نکل کر ملک کے بیشتر علاقوں سمیت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی پہنچ گئے ہیں گزشتہ دنوں اسلام آباد کے علاقے آئی 10 میں دہشت گردوں نے حملہ کر کے ایک پولیس اہلکار شہید اور چار کو زخمی کر دیا اور دو راہگیر بھی شدید زخمی ہو گئے پولیس کے مطابق اہلکاروں نے ایک مشکوک گاڑی کو تلاشی کے لیے روکا جس میں ڈرائیور کے ساتھ ایک اور شخص بھی موجود تھا اور روکنے پر گاڑی سوار خودکش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا پولیس نے بتایا کہ دھماکے میں 18 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا واقعے کی جگہ سے ایک موبائل فون بھی ملا جس سے قبضے میں لے لیا گیا اور خدشات کے عین مطابق دہشت گردی کے اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے اس سارے معاملے پر وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی اسلام آباد میں داخل ہوئی جس کا ٹارگٹ ہائی لیول تھا مگر پولیس کی کارروائی نے اسے چھوٹے نقصان میں تبدیل کر دیا مگر سوال یہ آتا ہے کہ اگر اس واقعے میں کوئی ہائی لیول بندہ مارا جاتا ہے تو وہ کیا ہائی لیول نقصان ہوتا مگر اس میں ایک جوان جو ہے اس نے جام شہادت نوش کیا تو اس وجہ سے یہ کیا کم لیول کا ہے سمجھ سے بالاتر ہے اپنے سیاستدانوں کے ایسے بیانات۔
اس واقعے سے پہلے ایسا دہشت گردی کا واقعہ سات سال پہلے ہوا تھا 2015 میں راولپنڈی میں کے علاقے شکریال روڈ پر امام بارگاہ کے باہر دھماکہ ہوا تھا جس میں تین افراد شہید جبکہ 2 زخمی ہوگئے تھے مگر سمجھ سے بالاتر ایک اور چیز ہے کہ وزیرداخلہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کی اطلاعات آرہی تھی کہ ایسا واقعہ اسلام آباد میں پیش آ سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ تو آپ لوگوں نے ہائی سکیورٹی 
کے انتظامات کیوں نہیں کیے انتظار کس چیز کا تھا؟ ابھی تک یہ جو دہشت گردی کی نئی لہر آئی ہے اگر دیکھا جائے تو کے پی کے میں 952 حملے رجسٹرڈ ہوچکے ہیں اس کے بعد انٹیلی جنس ایجنسی نے الرٹ جاری کیا تھا کہ اسلام آباد کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس میں بڑا نقصان سے بچت صرف اس لیے ہوئی کہ اس آباد پولیس کے ایک جوان عدیل نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر کتنے لوگوں کی جان بچائی کتنے معصوموں کو یتیمی سے بچایا مگر ملک میں اب بھی جو لہر آئی ہے دشت گردی کی اس میں خطرناک اضافہ ہوا ہے مگر سوال آتا ہے کہ دارالحکومت کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟سیف سٹی تو پہلے ہی موجود تھا مگر ایک ادارہ ہوتا تھا نیکٹا اس کے بارے میں کوئی اہم خبر نہیں سن رہے یہ صرف ایک شہر کی سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت لمیٹڈ وار میں چلا گیا ہے ہم اس وقت کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ وار کی سی کیفیت میں ہے جس کی جڑیں افغانستان سے ملتی ہیں سی ٹی ڈی نے بھی خدشات ظاہر کیے تھے کے افغانستان میں جو معاملات ہوئے ہیں اس کے اثرات آئیں گے سوال یہ تھا کہ کس کو کنٹرول کیوں نہیں کیا گیا؟ دہشت گردی کے واقعات تشویش ناک حد تک بڑھ گئے ہیں سب سے زیادہ متاثرہ کے پی کے کا صوبہ ہے جہاں واضح طور پر سکیورٹی فورسز کے دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں پولیس کے مطابق صرف اس سال کے پی کے میں دو سو بیس سے زائد حملوں میں ایک سو اٹھارہ پولیس اہلکار شہید جبکہ 115 زخمی ہوئے 28 نومبر کو ایک اعلامیہ کے ذریعے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات ہوئے اور جب طرفہ جنگ بندی ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعد سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا دسمبر میں ہونے والے بڑے دہشت گردی کے واقعات میں 12 اہلکار شہید ہوئے گزشتہ دنوں دہشت گردوں نے بنوں سی ٹی ڈی کے دفتر پر حملہ کر کے اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر انہیں یرغمال بنا لیا ہے جن کے خلاف آپریشن میں 3 اہلکار شہید ہوئے 18 دسمبر کو لکی مروت میں تھانے پر حملہ کر کے 14 اہلکار شہید کر دیے چھ دسمبر کو بنوں میں ایف سی کے سپاہی کو سر قلم کر کے شہید کر دیا گیا تین دسمبر کو نوشہرہ میں فائرنگ کرکے 3 پولیس اہلکاروں کو شہید کردیا گیا یہی سارے معاملات دیکھیں تو بڑا ہی افسوس ہو رہا ہے کہ ملک جا کے اس طرف رہا ہے ہم لوگوں کا اس ملک کی عوام کا کیا بنے گا؟اور ہمارے جوان شہید ہوگئے ہیں جن کے خون کا قرض ہم نہیں ادا کر سکتے دکھ ہوتا ہے کہ سیاستدان اپنی کرسی کی جنگ میں مصروف ہیں اور عوام اور سکیورٹی اہلکار اپنی جان کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں 
کرب و بلا شدید ہے سچ مگر یہی آیا
شہید کی جو موت ہے قوم کی حیات ہے

مزیدخبریں