پنجاب کے 7 بڑے شہروں میں جزوی لاک ڈاؤن کا آغاز 

پنجاب کے 7 بڑے شہروں میں جزوی لاک ڈاؤن کا آغاز 
کیپشن: پنجاب کے 7 بڑے شہروں میں جزوی لاک ڈاؤن کا آغاز 
سورس: file

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار  نے کہا ہے کہ کورونا کیسز میں اضافے پر 7 شہروں میں آج سے جزوی لاک ڈاؤن شروع ہو رہا ہے۔  

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے  وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایکٹو کورونا کیسز کی تعداد 26ہزار سے زائد ہے اور 24 گھنٹوں کے دوران 64 اموات ہوئی ہیں۔

 پنجاب کے 7شہروں میں آج سے جزوی لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے، جزوی لاک ڈاؤن والےشہروں میں کورونا کیسز 12 فیصد سے زیادہ ہیں۔ 

  

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت ڈیڑھ ارب روپے کی 10 لاکھ ویکسین منگوائے گی۔ اسپتالوں میں آکسیجن کی طلب 7 فیصد بڑھ گئی ہے۔ فرنٹ لائن کے تمام افراد کو ویکسین دینے کی کوشش کی ہے، عوام ماسک پہننےکی ایس اوپیز ہر صورت عمل کرے۔

واضح رہے کہ پیر کو پنجاب کابینہ کمیٹی برائے انسداد کرونا وائرس کا اہم اجلاس وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں ہوا تھا جس میں اہم فیصلے کیے گئے تھے ۔ انتظامیہ نے بڑھتے کیسز کے تناظر میں 12 فیصد سے زائد مثبت کیسز والے اضلاع میں شادیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

اجلاس میں ان ڈور، آؤٹ ڈور ڈائننگ پربھی مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جب کہ ریسٹورنٹس سے صرف ٹیک آوے کی اجازت ہوگی۔ پارکس، تفریحی مقامات اور سماجی اجتماعات پر بھی پابندی ہوگی۔ اجلاس میں میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔ ماسک نہ پہننے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا گیا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کمشنر اور ڈی سی پر مقدمہ درج ہوگا۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صورت حال بہتر ہونے تک کاروباری سرگرمياں 6 بجے تک ہونگی۔ جب کہ ہفتے ميں 2 دن دکانيں بند ہونگی۔ يکم اپريل سے ميرج ہال بند ہونگے۔ جہاں کرونا شرح 12 فيصد سے زائد ہے وہاں 11 اپریل تک لاک ڈاؤن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے دوران مثبت کيسز کی شرح 21 فيصد رہی ہے۔ کرونا کی تیسری لہر پہلی لہر سے زیادہ خطرناک ہے۔ کیسز میں اضافے سے اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ معاشی سرگرمیوں پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگا رہے۔ صنعتوں کی بندش کے حق ميں نہيں۔

قبل ازیں اجلاس کے شرکا کی جانب سے کرونا کی روک تھام کیلئے 7 روزکیلئے مکمل لاک ڈاؤن کی سفارش کی گئی، جب کہ 12 فیصد مثبت کیسز کی شرح والے شہروں میں لاک ڈاؤن کی سفارش کی گئی۔