بڑھاپے میں  صحت مند رہنے  کیلیے کتنی دیر چہل قدمی  کرنا ضروری

بڑھاپے میں  صحت مند رہنے  کیلیے کتنی دیر چہل قدمی  کرنا ضروری

برمنگھم : بڑھاپے میں  صحت مند زندگی اسی صورت میں گزاری جاسکتی ہے جب  آپ اپنے لائف سٹائل میں تھوڑی بہت تبدیلی کریں۔ اگر جوانی میں لائف سٹائل میں تبدیلی نہ کی جائے اور صحت کا خیال نہ رکھا جائے تو بڑھاپے میں لگنے والی چوٹیں  انتہائی نقصان دہ ہوتی ہیں  اور   اس کےاثرات نقصان دہ ہوتے ہیں۔ 

ماہرین صحت کے مطابق  روزانہ آدھے گھنٹے سے بھی کم چہل قدمی، تیراکی یا ٹینس کھیلنا  بڑھاپے میں بھی صحت مند رکھتا ہے  اور  اس طرح  چوٹ لگنے سے  ہڈیو ں  کوبھی نقصان ہوتا ہے۔ ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ریٹائرڈ خواتین اگر ہر ہفتے کم از کم ڈھائی گھنٹے ہلکی ورزش کرتی ہیں تو ان میں ایک تہائی تک اپنے آپ کو چوٹ لگنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق تیز چلنا مضبوط ہونے اور گرنے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کم از کم  ڈھائی گھنٹے کی  ورزش  کافی ہے۔ماہرین کے مطابق  ہر تین برطانوی بزرگوں  میں سے ایک کو ہر سال صحت کے مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے 
بہت سے بزرگوں کی ہڈیاں معمولی  سی چوٹ سے بھی  فریکچر ہوجاتی ہیں۔

یونیورسٹی آف سڈنی کی قیادت میں ماہرین  کاکہنا ہےکہ پٹھوں کی طاقت بڑھانے اور توازن کو بہتر بنانے کی سرگرمیاں خطرے کو کم کر سکتی ہیں۔اس حوالے سے  آسٹریلیا میں بھی  تحقیق ہوئی ہے۔  آسٹریلیا  میں 65 سے 73 سال کی عمر کی 7,139 خواتین کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔اس نے پایا کہ ہر ہفتے 150 سے 300 منٹ کی ورزش کرنے سے گرنے کا خطرہ 26 فیصد کم ہوتا ہے، جبکہ 300 منٹ سے زیادہ یعنی پانچ گھنٹے تک ورزش کرنے سے خطرہ 34 فیصد کم ہوتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق  ورزش    بڑھاپے میں ڈیمنشیا کے خطرات کو کم کرتی ہے۔

مصنف کے بارے میں