کھانے پینے کی ڈگری

Ali Imran Junior, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, e-paper

دوستو،فرانس کی ایک یونیورسٹی نے ’کھانے، پینے اور رہنے‘ کے شعبے میں ایم اے کی ڈگری جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جو اُن ہی طالب علموں کو دی جائے گی جو یہ کورس کامیابی سے مکمل کریں گے۔ اس کورس کو ’ماسٹرز آن بی ایم وی‘  (MA on BMV) یعنی ’کھانے، پینے اور رہنے میں ماسٹرز‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ اسے فرانس کی مشہور یونیورسٹی ’سائنسز پو لیلی‘ نے شروع کیا ہے۔یونیورسٹی ویب سائٹ کے مطابق، آج کے دور میں اچھی غذا، اچھے مشروبات اور بہتر اندازِ رہائش کو معیاری زندگی میں اہم مقام حاصل ہے جبکہ بہت سے لوگ ان اصولوں اور ضابطوں کی پابندی بھی کررہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ’کھانے، پینے اور رہنے‘ میں ایم اے کرنے کیلیے امیدواروں کو مختلف حالات کے تحت کھانا پینا اور رہنا سیکھنے کے علاوہ متعلقہ خدمات، مصنوعات اور صنعتوں کے بارے میں بھی بہت کچھ جاننا اور سمجھنا پڑے گا۔ویب سائٹ پر اس کورس کی مزید تفصیلات کے تحت یہ بھی لکھا گیا ہے کہ طالب علموں کو مختلف تہذیبوں اور سماجی حالات میں کھانے، پینے اور رہنے کی تربیت دی جائے گی جبکہ یہ بھی سکھایا جائے گا کہ ایک مختلف تہذیب یا سماجی پس منظر کا سامنے ہونے پر ان معمولات میں کیا تبدیلی لانی چاہیے اور کون کونسی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔اس کے علاوہ زراعت، غذائی سائنس اور غذائی صنعت کے بارے میں تربیت بھی مختلف کورسز کا حصہ بنائی گئی ہے۔’سائنسز پو لیلی‘ یونیورسٹی ویب سائٹ کے مطابق، بود و باش (کھانا پینا اور رہنا) نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں جنہیں سفارت کاری تک میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔کہنے کو تو بظاہر احمقانہ اور بے مقصد ڈگری کے پیچھے بھی سنجیدہ مقاصد پوشیدہ ہیں ،دوسری طرف ہمارے ملک میں سب ہی کھانے پینے میں ’’ماسٹرز‘‘ ہیں، انہیں کسی بھی ڈگری کی ضرورت نہیں۔۔
امریکا میں ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ خود پر بوڑھے ہونے کا احساس طاری رکھتے ہیں، وہ ڈپریشن، ڈیمنشیا، ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب سمیت مختلف ذہنی و جسمانی بیماریوں میں بھی زیادہ مبتلا رہتے ہیں۔اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی میں 52 سے 88 سال کے 105 افراد پر کی گئی اس تحقیق میں 2010 کے دوران ’پلس‘ (PULSE) نامی ایک سروے میں ادھیڑ عمر اور بزرگ افراد کی ذہنی و جسمانی صحت سے متعلق جمع کی گئی معلومات سے استفادہ کیا گیا تھا۔اس معلومات کے تجزیئے سے پتا چلا کہ جو لوگ عمر بڑھنے کے ساتھ خود کو فرسودہ اور ناکارہ سمجھنے لگتے ہیں، وہ عمر رسیدگی کے باعث پیدا ہونے والی مختلف جسمانی اور ذہنی بیماریوں میں بھی زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو اپنے طور پر بڑھاپے کو زیادہ محسوس کررہے تھے جبکہ دوسری جانب ایسے افراد بھی تھے جنہیں ان کے ارد گرد موجود دوسرے لوگ مسلسل بوڑھا ہونے کا احساس دلارہے تھے۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ دونوں صورتوں میں بڑھاپے کا منفی احساس ایسے افراد کو بیمار کررہا تھا۔اس کے برعکس، خوشگوار احساس کے ساتھ عمر رسیدگی کی منزلیں طے کرنے والوں میں جسمانی اور ذہنی بیماریاں نمایاں طور پر کم دیکھی گئیں جبکہ زیادہ عمر ہوجانے کے باوجود وہ لوگ خاصے چاق و چوبند تھے۔مذکورہ سروے میں شرکاء کے جوابات سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ اگر کسی شخص کو تھوڑی دیر کیلیے بھی منفی انداز میں بوڑھے ہونے کا احساس دلایا جائے تو وہ اعصابی تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے جسے زائل ہونے میں خاصا وقت لگتا ہے۔’’عمر رسیدگی کا خوشگوار احساس آپ کی صحت کیلئے بہتر ہے، اس سے قطع نظر کہ آپ پر کتنا (اعصابی) دباؤ ہے یا آپ کتنا زیادہ دباؤ محسوس کررہے ہیں،‘‘ ڈکوٹا وٹزل نے کہا جو اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور او ایس یو کالج آف پبلک ہیلتھ اینڈ ہیومن سائنسز میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔یہ تحقیق ’جرنل آف جیرونٹولوجی، سیریز بی، سائیکولوجیکل سائنسز‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔البتہ وٹزل نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کرنے میں جلد بازی نہ کی جائے کیونکہ جس سروے کی بنیاد پر یہ تحقیق کی گئی ہے، اس میں شرکاء کی تعداد کم تھی جبکہ ان کی اکثریت سفید فام خواتین پر مشتمل تھی۔ ’’اگر ہم عمر رسیدگی کے احساس اور ذہنی و جسمانی صحت میں تعلق کو بہتر طور پر سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس سے کہیں بڑے سروے کی ضرورت ہوگی جس میں خواتین و حضرات کی یکساں تعداد کے علاوہ مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوں،‘‘ وِٹزل نے واضح کیا۔
ہماری اب زیادہ تر یہ کوشش ہونے لگی ہے کہ ہفتے میں کم سے کم ایک بار آپ کو کچھ مفید معلومات دی جائیں ،اوٹ پٹانگ باتیں اپنی جگہ لیکن اگر کبھی کبھار کام کی بات بھی کرلی جائے تو اس میں سب کا بھلا ہے۔کہتے ہیں کہ دنیا کی قیمتی دوائی کو چاندی کے ورق میں لپیٹ کر سونے کے چمچے سے بھی کھایا جائے تب بھی اس کی تاثیر ورزش کے سامنے ہیچ ہے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ اگر روزانہ دس منٹ ورزش، جسمانی سرگرمی اور چہل قدمی کی جائے تو اس سے امراض دور رہتے ہیں اور اوسط عمر میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔اسی رپورٹ کی بنا پرڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ 40 سے 85 برس کے افراد روزانہ دس منٹ واک کو یقینی بنائیں۔ اگر صرف امریکی اس کے عادی ہوجائیں تو سالانہ ایک لاکھ سے زائد افراد کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔میری لینڈ میں واقع نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں میٹابولک اپی ڈیمیولوجی کے پروفیسرپیڈرو سینٹ مورائس کہتے ہیں کہ اگرجاگنگ کی بجائے تیزقدمی بھی کی جائے تو اس سے ہر رنگ اور نسل کے بزرگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔سائنسدانوں نے درمیانی عمر سے لے کر بڑھاپے کے 4800 افراد کا جائزہ لیا ہے۔ یہ تمام افراد ایک بڑے حکومتی سروے کا حصہ تھے جو 2003 سے 2006 تک ہوا۔ سات روز تک تمام شرکا کو جسمانی سرگرمی نوٹ کرنے والے مانیٹر پہنائے گئے۔ پھر 2015 تک اس کا جائزہ لیا گیا اور پورے امریکہ میں اموات کا ڈیٹا بھی دیکھا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ روزانہ 10 منٹ کی ورزش سے قبل ازوقت موت کا خطرہ 7 فیصد، 20 منٹ ورزش سے 13 فیصد اور اضافی نصف گھنٹے کی واک یا ورزش سے یہ فائدہ 17 فیصد تک جاپہنچتا ہے۔ اب اگر لوگ صرف 20 منٹ روزانہ ورزش کے لیے نکالتے ہیں تو اس سے سالانہ دو لاکھ سے زائد جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ذمہ داریوں سے بڑا کوئی الارم نہیں ہوتا۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

مصنف کے بارے میں