کوویڈ 19 کی دوسری ویکسیئن مناسب وقفے سے لگوانے سے زیادہ افاقہ ہوسکتا ہے، ماہرین صحت

کوویڈ 19 کی دوسری ویکسیئن مناسب وقفے سے لگوانے سے زیادہ افاقہ ہوسکتا ہے، ماہرین صحت

ٹورانٹو : کووڈ 19 سے بچنے کے لئے ایم آراین اے ویکسین کی دوسری ڈوز مجوزہ مدت کے چارہفتوں بعد لگانا بہترنتائج کا باعث بن سکتی ہے ۔

یہ تحقیق  کینیڈین حکومت کی ’’کووِڈ 19 اِمیونیٹی ٹاسک فورس‘‘ (سی آئی ٹی ایف) کی فنڈنگ سے، یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر برائن گروناؤ کی سربراہی میں کی گئی ہے۔

تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ ویکسین کی دوسری ڈوذ میں مناسب وقفہ ہونا چاہئے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اس اضافی مدت کے دوران جسم میں (پہلی ڈوز لگنے کے بعد) کورونا وائرس کے خلاف پیدا ہونے والی مدافعت (اِمیونیٹی) بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہے  جس کے بعد دوسری ڈوز لگانے سے یہ مدافعت اور بھی مضبوط ہوجاتی ہے ۔ 

واضح رہے کہ اس وقت کووِڈ 19 کی دو ایم آر این اے ویکسینز دستیاب ہیں جن میں سے ایک فائزر/ بایو این ٹیک نے جبکہ دوسری موڈرنا نے تیار کی ہے۔

دونوں ویکسینز کا مکمل کورس دو خوراکوں (ڈوزز) پر مشتمل ہوتا ہے۔ امریکی ادارے ’’سی ڈی سی‘‘ کے مطابق، فائزر ویکسین کی پہلی خوراک کے 21 دن بعد، جبکہ موڈرنا ویکسین کی پہلی خوراک کے 28 دن بعد دوسری خوراک لگانی چاہیے۔

اس کے برعکس، آکسفورڈ اکیڈمک کے ریسرچ جرنل ’’کلینیکل انفیکشس ڈزیز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ تحقیق میں کینیڈین ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ دونوں ویکسینز کی پہلی خوراک کے 42 سے 49 دن (6 سے 7 ہفتے) بعد دوسری خوراک (سیکنڈ ڈوز) لگائی جائے تو وہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

یہ تحقیق انہوں نے طبّی عملے کے 186 افراد پر کی ہے جن میں سے دو تہائی نے فائزر کی، جبکہ باقی ایک تہائی نے موڈرنا کی ایم آر این اے ویکسین لگوائی تھی۔

ان لوگوں نے تجویز کردہ وقفے (21 اور 28 دن) کے بجائے 42 سے 49 دن بعد ان ویکسینز کی دوسری خوراک لگوائی تھی۔ویکسی نیشن مکمل ہونے کے چند روز بعد جب ان تمام افراد سے خون کے نمونے لے کر تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں کورونا وائرس کا خاتمہ کرنے والی اینٹی باڈیز کی مقدار، مجوزہ وقفے کے بعد ویکسین کی دوسری ڈوز لگوانے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی۔

کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کی زیادہ مقدار کا مطلب یہ تھا کہ تاخیر سے دوسری ڈوز لگوانے والوں میں کووِڈ 19 کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت بھی دوسرے لوگوں سے زیادہ تھی۔

قبل ازیں اس نوعیت کی صرف ایک تحقیق برطانیہ میں ’’آکسفورڈ ایسٹرازنیکا‘‘ ویکسین پر ہوئی تھی۔ اس تحقیق میں بھی یہی معلوم ہوا تھا کہ تجویز کردہ وقفے کے بجائے مزید چند ہفتوں بعد دوسری ڈوز لگوانا زیادہ مفید رہتا ہے۔

کینیڈین ماہرین نے اپنی تحقیق میں کووِڈ 19 ویکسین کی دو خوراکوں کے درمیان حالیہ تجویز کردہ وقفے کو ’’متنازعہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ یہ وقفہ 42 سے 49 دن رکھنا زیادہ مفید ہے کیونکہ اس مدت میں جسمانی مدافعتی نظام کو مناسب وقت مل جاتا ہے کہ وہ خود کو اس وائرس اور بیماری کے خلاف زیادہ مضبوط بنا سکے۔