اسرائیل کا الجزیرہ کا آفس بند کرتےہی،فلسطینیوں کو مشرقی رفح سے نکل جانے کا حکم

اسرائیل کا الجزیرہ کا آفس بند کرتےہی،فلسطینیوں کو مشرقی رفح سے نکل جانے کا حکم

لاہور (ویب ڈیسک): اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو مشرقی رفح سے نکل جانے کا حکم  دے دیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی کابینہ نے ملک میں الجزیرہ کی کارروائیوں کو بند کرنے کے لیے متفقہ طور پر ووٹ دیا۔

اسرائیل کی فوج نے فلسطینیوں کو مشرقی رفح سے نکل جانے کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ جنوبی غزہ میں "انتہائی طاقت" استعمال کرنے والا ہے۔ یہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جنگ بندی کے مذاکرات ٹھپ ہوتے دکھائی دیے اور اسرائیلی کابینہ نے ملک میں الجزیرہ کی کارروائیوں کو بند کرنے کے لیے متفقہ طور پر ووٹ دیا۔

یہ حکم ایک رات شدید اسرائیلی بمباری کے بعد دیا گیا ہے جس میں رفح میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں آٹھ بچے بھی شامل تھے۔اس سے قبل اتوار کو حماس نے کریم ابو سالم کراسنگ پر راکٹ داغے تھے جس میں تین اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔

حکومت کی جانب سے قطری ملکیت والے ٹی وی اسٹیشن کے مقامی آپریشن کو بند کرنے کے فیصلے کے بعد اسرائیلی حکام نے الجزیرہ کے یروشلم دفتر پر چھاپہ مارا اور نشریاتی آلات ضبط کر لیے۔اسرائیلی کابینہ نے متفقہ طور پر شٹ ڈاؤن کی منظوری دیتے ہوئے الجزیرہ کو حماس کا ماؤتھ پیس قرار دیا اور اس پر اشتعال انگیزی کا الزام لگایا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ نے اس بنیاد پر نیٹ ورک کو بند کر دیا کہ جب تک کہ غزہ میں جنگ جاری ہے قطری ٹیلی ویژن نیٹ ورک قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔بنجمن نیتن یاہو نے کابینہ کے متفقہ ووٹ کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ’اسرائیل میں اشتعال انگیز چینل الجزیرہ بند کر دیا جائے گا۔‘

حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے وزیر مواصلات نے ’فوری طور پر عمل کرنے‘ کے احکامات پر دستخط کردیے ہیں، لیکن کم از کم ایک قانون ساز جنہوں نے بندش کی حمایت کی تھی، کہا کہ الجزیرہ اب بھی اسے عدالت میں روکنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام میں اسرائیل میں الجزیرہ کے دفاتر کو بند کرنا، نشریاتی آلات کو ضبط کرنا، چینل کو کیبل اور سیٹلائٹ کمپنیوں سے منقطع کرنا اور اس کی ویب سائٹس کو بلاک کرنا شامل ہے۔

واضح رہے کہ بیان میں الجزیرہ کے غزہ آپریشنز کا ذکر نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ یہ نیٹ ورک غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی پر تنقید کرتا رہا ہے، جہاں سے اس نے جنگ کے دوران چوبیس گھنٹے رپورٹنگ کی  اور یہ فلسطین سے  رپورٹنگ کا ایک اہم نشریاتی ادارہ ہے۔ 

الجزیرہ نے اس سے قبل اپنی کارروائیوں کو روکنے کی اسرائیلی کوششوں کو ’اشتعال انگیزی‘ قرار دیا تھا اور اپریل کے اوائل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یہ الجزیرہ کو خاموش کرانے کے لیے منظم اسرائیلی حملوں کے سلسلے کا ایک حصہ ہے‘۔ 

یادرہے کہ  فلسطین میں اب تک اسرائیلی  بمباریوں سے تقریباً35ہزار  فلسطینی سہید ہو چکی  ہیں جبکہ 78 ہزار سے زائد   زخمی  ہوئے۔ 

مصنف کے بارے میں