'خیرات میں سیٹ نہیں چاہیے' جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی چھوڑنے کا اعلان

'خیرات میں سیٹ نہیں چاہیے' جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی چھوڑنے کا اعلان
سورس: file

کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ اسمبلی کی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ 

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ میں اپنی سیٹ واپس کر رہا ہوں، ہمیں خیرات میں سیٹ نہیں چاہیے۔میری یہ سیٹ الیکشن کمیشن کے منہ پرطمانچہ ہے، ہم لڑیں گے اپنی نشستوں کے لیے، ڈوب مریں یہ لوگ جو جعلی مینڈیٹ پر جشن منارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  میں اتنا ظرف رکھتا ہوں، میں وہ سیٹ نہیں لوں گا، اگر انہوں نے ہمیں اڑا دیا ہے تو ہمیں قوم کے دل سے نہیں نکال سکتے۔ہم قانونی اور سیاسی جنگ لڑیں گے، آپ جعلی مینڈیٹ سے لوگوں کے ذہن نہیں بدل سکتے، میرے 26 ہزار ووٹ شو کیے جبکہ وہ 30 ہزار سے زائد ہیں، جو سیٹیں ہم جیتے ہیں وہ چاہئیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ بہت سارے پولنگ اسٹیشنز پر وقت پر پولنگ شروع نہیں ہوئی، وقت گزرتا گیا ہم پولنگ شروع نہ ہونے کی شکایات کرتے رہے، عوام کو حق رائے دہی سے محروم کیا گیا۔

امیرِ جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کارروائی کرنے والوں نے پہلے کیمرے ہٹائے اور ڈبے بھرنے شروع کیے، فارم 45 نہیں دیے جا رہے تھے، بڑی تعداد میں پولنگ ایجنٹس کو فارم فراہم ہی نہیں کیے گئے تھے، فارم 47 میں بدترین دھاندلی کی گئی۔  آر او کے آفسز کو چاروں اطراف سے سیل کیا گیا تاکہ کوئی پرندہ بھی پر نہ مار سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم حقائق کو مسلسل عوام کے سامنے لاتے رہیں گے، بلدیاتی الیکشن سے زیادہ لوگوں نے اس بار جماعت اسلامی کو ووٹ ڈالے۔


حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ ووٹ یا تو جماعت اسلامی کو پڑے یا پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو، جو کچھ پورے ملک میں ہورہا ہے وہ تماشے سے زیادہ کچھ نہیں، یہ ڈنڈے اور زبردستی کا مینڈیٹ ہے۔

واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 129 کراچی سینٹرل سے جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمٰن 26926 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے معاذ مقدم 20608 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے

مصنف کے بارے میں