قوم کے محسن کوسلام

Umer Khan Jozi, Pakistan, Naibaat newspaper,e-paper, Lahore

میری ان سے پہلی اورآخری ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ سرکاری طورپرملک وقوم کے عظیم ”محسن“ کادرجہ رکھتے تھے۔بعدمیں تومحرم سے مجرم،بے گناہ سے گناہ گاراورنہ جانے کیاسے کیاانہیں نہیں بنایاگیا۔لیکن اللہ گواہ ہے میں نے انہیں زندگی بھرقوم کے ایک عظیم محسن کی شکل وصورت میں ہی دیکھا۔وہ برسوں پہلے بھی کروڑوں محب وطن پاکستانیوں کی طرح میرے لئے عزیزجان سے بھی زیادہ عزیزتھے اوروہ جب زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے تب بھی میرے نزدیک ان کی قدرومنزلت،ادب واحترام اورعزت 22کروڑ محب وطن پاکستانیوں کی طرح ایک عظیم ”محسن“سے ہرگزہرگزکم نہیں تھی۔ قوم سے پیاراورملک سے محبت شائدیہ انہی کاکوئی خاصاتھا۔ملک اورقوم پرایک عظیم احسان کرنے کے باوجودوہ زندگی بھرآخری سانس تک پاکستان پاکستان اورعوام عوام کرتے رہے۔ہم نے غیروں کے اشاروں پراسے شیرکی طرح پنجرے میں بندکیا۔ان کے چلنے پھرنے اورگھومنے پرپابندی بھی لگائی لیکن وہ ملک وقوم سے پیاراورمحبت کرنے سے پھربھی بازنہیں آئے۔پنجرے میں بندانسان کیا۔؟شیرجیسے طاقت ورجانورکوبھی پھردوسروں کاکیا۔؟اپنا خیال بھی نہیں رہتامگرمیں قربان جاؤں قوم کے اس عظیم محسن پرجسے قیدتنہائی میں بھی ہروقت اپنے سے بڑھ کر اپنے اس پاکستان اوریہاں کے غریب عوام کی سوچ وفکرہمہ وقت لاحق رہی۔ خدانے ہمیں ایک ہیرادیاتھاجسے ہم نے کھودیا۔پہلے کسی بڑی شخصیت یاشخصیات کے جانے سے صرف یہ قوم یتیم ہوتی تھی لیکن اس ”ایک محسن“ کے جانے سے آج بلاکسی شک وشبہ کے پورا ”پاکستان“ یتیم ہوگیاہے۔اس نے اپنے بچوں سے بھی اتناپیارنہیں کیا ہو گا جتنا پیار اس نے اس ملک کودیا۔اس کاتوصرف وہ ایک احسان بھی ہم سب کی لاکھوں وکروڑوں نہیں بلکہ اربوں وکھربوں بھلائیوں، نیکیوں اور کارناموں پر بھاری بہت بھاری ہے جواس نے ایٹم بم بنانے کی صورت میں اس ملک اورقوم پرکیاہے۔اس ملک میں آنکھ کھولنے والاہرشخص سب کچھ بھول سکتاہے لیکن اس ہستی کاوہ ایک احسان کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔تحریروں وتقریروں اورلفظی وکلامی نہیں حقیقت میں وہ ہم سب پاکستانیوں کے بڑے بہت بڑے ”محسن“ تھے۔یہ ان کی اس لازوال محنت ومحبت کانتیجہ ہی توہے کہ بالکل پڑوس میں بھارت جیسے 
مکار، غیار اور ازلی دشمن کے ہوتے ہوئے بھی ہم برسوں سے نہ صرف سکون کی نیندسورہے ہیں بلکہ سراٹھاکرجی بھی رہے ہیں۔ اس کاوہ ایک احسان اگرہم پرنہ ہوتاتومعلوم نہیں آج ہماری اوراس ملک کی کیاحالت ہوتی۔؟وہ بھارت پاکستان کوگرانااورنشانہ بناناہمیشہ جس کاخواب رہا۔وہ امریکہ جس نے عراق اور لیبیاکیا۔؟ہمارے پڑوس میں افغانستان تک کونہیں چھوڑا۔وہ اسرائیل جس کی طاقت سے فلسطین میں آج بھی خون ہی خون بہہ رہاہے۔ صرف ایک لمحے کے لئے ذرہ سوچئے۔ ہمارے پاس اگرایٹم بم نہ ہوتا توکیاخون کے پیاسے یہ بھیڑئیے ہمیں کبھی اس طرح چھوڑتے۔؟یہ اسی محسن کاوہ احسان ہے جوبھارت،امریکہ اوراسرائیل جیسے خونخوارممالک اورطاقتوں کوبھی ہماری طرف بڑھنے نہیں دے رہا۔آج اگرہم آنکھیں سرخ اورگردن اکڑکربات کرتے ہیں تواس کے پیچھے اسی محسن کاوہ احسان چھپاہواہے جس احسان کونہ جانے ہم کب کے بھلاچکے ہیں۔ڈاکٹرعبدالقدیرخان بلاکسی شک اورشبہ کے ہمارے ایک عظیم محسن تھے لیکن افسوس ہم اپنے اس محسن کے اس عظیم احسان کو اتارنا تو دور اتارنے کی کوشش بھی نہ کرسکے۔ایسے محسنوں کے لوگ پاؤں کیا۔؟پاؤں کی خاک بھی چومتے ہیں لیکن ہم نے اپنے اس محسن کے ساتھ کیاکیا۔؟یہ سوچ کر بھی آنکھیں نم اوردل غمگین ہو جاتا ہے۔ جس کوسروں پر اٹھانا اور تخت پر بٹھانا تھا اس کوہم نے تماشا بنا کر پنجرے میں بٹھا دیا۔ سوچتا ہوں بروزمحشر جب اس محسن کے ہاتھ اورہمارے یہ گریبان ہوں گے اس وقت ہم اپنے رب کوکیامنہ دکھائیں گے۔؟یاکیاجواب دیں گے۔؟ احسان فراموشی یہ بھی توایک بڑاگناہ ہے۔احسان فراموش لوگ نہ صرف اس دنیامیں دربدرہوتے ہیں بلکہ ایسے لوگ اس دنیامیں بھی پھرکہیں کے نہیں رہیں گے۔آج ہم لوگ بھی جونہ ادھرکے رہے ہیں نہ ادھرکے۔یہ بھی احسان فراموشی کی ایک سزا تو ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیرخان سرخروتھے اورسرخروہوکرچلے گئے لیکن ان لوگوں اورقوتوں کاکیابنے گا۔؟جنہوں نے قوم کے اس محسن کوناکردہ گناہوں پرکٹہرے میں لاکھڑاکیا۔جنہوں نے ملک کے اس محافظ کودنیاکے سامنے تماشابنایا۔اس کافیصلہ اب وقت کرے گا۔ہم نے تودائیں اوربائیں ہاتھ میں تمیزکرنے سے بھی پہلے بہت پہلے اپنے بڑوں سے یہ سن رکھاتھاکہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان نہ صرف ہمارے بلکہ اس ملک اورقوم کے محسن ہیں۔پھرجب سابق وزیراعظم نوازشریف نے امریکہ،بھارت اور دیگر ممالک کی دھمکیوں اورسازشوں کوپاؤں تلے روندتے ہوئے تاریخی ایٹمی دھماکوں کے ذریعے ان کے تکبر،غروراورسپرپاوری کو ہوامیں اڑایاتواس محسن کاوہ احسان ہم پرمزیدواضح ہوگیا۔وہ دن اورآج کادن۔اس کے بعداپنے اس محسن کوہم نے کبھی دل سے نہیں نکالا۔ سالہا سال پہلے اسلام آبادکے ایک مقامی ہوٹل میں جب اپنے اس محسن کی زیارت نصیب ہوئی توفرط جذبات میں اس مردقلندرکے وہ مبارک ہاتھ میں نے باربار چومے جن ہاتھوں کی وجہ سے ہم ڈر،خوف،بے بسی اوربے وسی کی وادیوں سے نکل کر امن،سکون اورغیرت وعزت کے دامن میں آئے۔میرے استادمرحوم حضرت قاری محمدحسن جوزوالے اکثرکہاکرتے تھے کہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان اس ملک اورقوم کے لئے قدرت کاایک انمول تحفہ ہیں۔کوئی بھولناچاہیں تووہ بھول بھی جائیں گے لیکن ہم۔؟ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوکبھی بھول نہیں پائیں گے۔ وطن کی حفاظت ہرشخص پرفرض بھی ہے اورقرض بھی۔پھرجوشخص وطن کی حفاظت کے لئے اپنا سب کچھ داؤپرلگائیں ایسے شخص کوکیسے بھولا جا سکتا ہے۔؟ بارڈر پر اگلے محاذاورمورچوں پرلڑنے والے پاک فوج کے جوانوں کے لئے جس طرح ہمارے ہاتھ اٹھتے ہیں اسی طرح ہماری کوئی دعاقوم کے اس محسن کانام لئے بغیر مکمل بھی نہیں ہوتی۔یہ توبرسوں سے ہماری دعاؤں میں شامل ہیں آمین کی طرح۔جس نے ہمیں کبھی نہیں بھولاہم اسے کیسے بھول سکتے ہیں۔؟کوئی مانیں یانہ۔لیکن حق اورسچ یہ ہے کہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے ہمارے اوپرایک دو نہیں بہت احسانات ہیں۔اس نے صرف ایٹم بم بنا کر ہمیں طاقت نہیں دی بلکہ انہوں نے ہمیں جینے کاشعور،امن سے رہنے کاطریقہ وسلیقہ اور پہاڑوں جتنا مضبوط حوصلہ بھی دیا۔ہم اگر اب روز ڈاکٹر صاحب کی قبرپرحاضری بھی لگائیں تب بھی ہم ان کے ان احسانات کابوجھ اپنے ان کندھوں سے نہیں اتار سکتے۔ ہم اپنے اس عظیم محسن کوسلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ڈاکٹرصاحب جاتے جاتے پورے ملک کویتیم کرگئے ہیں۔ ان کی اچانک جدائی اس ملک اورقوم کے لئے بہت بڑاسانحہ ہے۔رب کریم سے دعاہے کہ وہ قوم کے اس عظیم محسن کوجنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین