پہلا عالمی معاہدہ طے،روایتی ایندھن کے استعمال میں کمی لانے پر اتفاق 

 پہلا عالمی معاہدہ طے،روایتی ایندھن کے استعمال میں کمی لانے پر اتفاق 

ریاض:روایتی ایندھن کے استعمال میں کمی لانے پر اتفاق  کرتے ہوئے عالمی کانفرنس میں  پہلا عالمی معاہدہ طے ہوگیا ہے۔ دنیا بھر کے لگ بھگ 200 ممالک نے بتدریج روایتی ایندھن کے استعمال میں کمی لانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات سے زمین کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔


دبئی میں کوپ 28 کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا۔ اس کانفرنس میں   اپنی طرز کا پہلا معاہدہ ہوا ہے  جس کے تحت خام تیل، گیس اور کوئلے کا استعمال بتدریج ختم کیا جائے گا۔دوہفتے تک جاری رہنے والی کانفرنس کے دوران اس معاہدے پر اتفاق کے لیے طویل مذاکرات کیے گئے اور مبصرین کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ دنیا روایتی ایندھن کے استعمال کو روکنے کے لیے متحد ہے۔


سائنسدانوں کی جانب سے کافی عرصے سے روایتی ایندھن کے استعمال کی روک تھام کو موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے آخری امید قرار دیا جا رہا ہے۔کوپ 28 کے صدر سلطان ال جابر نے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی کامیابی اس وقت ہوگی جب اس پر عملدرآمد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔


کانفرنس کے دوران 100 سے زائد ممالک کی جانب سے معاہدے میں خام تیل، قدرتی گیس اور کوئلے کے استعمال کو بتدریج ختم کرنے کے لیے سخت زبان استعمال کرنے کی مہم چلائی گئی تھی، جبکہ اوپیک میں شامل ممالک کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔کوپ 28 کانفرنس کا اختتام 12 دسمبر کو ہونا تھا مگر معاہدے پر اتفاق نہ ہونے پر اس کے دورانیے میں ایک دن کا اضافہ کیاگیا۔


اس معاہدے کے تحت توانائی کے حصول کے لیے روایتی ایندھن کے استعمال کو بتدریج کم کیا جائے گا اور 2050 تک ان ذرائع کا استعمال مکمل ختم کر دیا جائے گا۔معاہدے میں 2030 تک عالمی سطح پر توانائی کے ماحول دوست متبادل ذرائع کے استعمال کی شرح میں 3 گنا اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ کوئلے کے استعمال میں کمی لانے کے لیے اقدامات کی رفتار بڑھانے کا بھی کہا گیا ہے۔اس کے علاوہ  ایسی ٹیکنالوجیز کی تیاری پر تیزی سے کام ہونا چاہیے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لاسکیں۔

مصنف کے بارے میں