پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف کے بعد راجہ ریاض ن لیگ سے بھی ہاتھ کرگئے، ٹکٹ ملنے کے بعد اچانک دستبردار، پی ٹی آئی کو فائدہ، جیت کی راہ ہموار

پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف کے بعد راجہ ریاض ن لیگ سے بھی ہاتھ کرگئے، ٹکٹ ملنے کے بعد اچانک دستبردار، پی ٹی آئی کو فائدہ، جیت کی راہ ہموار
سورس: File

فیصل آباد : پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے سابق رہنما اور سابق اپوزیشن لیڈر اب مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ریاض نے الیکشن سے دستبرداری کا اعلان کرکے مسلم لیگ ن کو بھی دھوکا دے دیا ہے۔ فیصل آباد کے حلقہ این اے 104 سے پی ٹی آئی کے لیے میدان صاف ہوگیا ہے۔ راجہ ریاض کے بعد حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدوار حامد رضا کی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے۔ 

سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور بانی پی ٹی آئی کیخلاف عدم اعتماد کے موقع پر تحریک انصاف سے منحرف ہو کر(ن) لیگ کا ساتھ دیا تھا ۔حکومت کے خاتمے کے بعد انہوں نے لندن جا کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تحریک انصاف چھوڑنے اور مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے پر حلقہ این اے104 سے راجہ ریاض احمد کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ دیا گیاتھا۔

تاہم راجہ ریاض نے 8فروری کو ہونیوالے عام انتخابات کے تمام انتخابی مراحل مکمل کرنے کے بعد الیکشن سے اچانک دستبرداری کا اعلان کرکے اپنے بیٹے بیرسٹر راجہ دانیال کو الیکشن لڑانے کا اعلان کر دیا جس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو شدید دھچکا لگا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی طرف سے حلقہ این اے104 سے مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ کارکن‘ سابق ممبر قومی وصوبائی اسمبلی رانا محمد افضل مرحوم کے صاحبزادے رانا احسان افضل کو نظرانداز کر کے راجہ ریاض کو ن  لیگ کا امیدوارنامزد کیا گیا اور پارٹی ٹکٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔

قیادت کے اس فیصلے نے رانا احسان افضل کے خاندان کو ناراض بھی کیا اور اسکے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے کئی سرگرم کارکنان بھی اس فیصلہ سے نالاں نظرآئے۔

راجہ ریاض احمد نے اپنے بیٹے بیرسٹر راجہ دانیال کو الیکشن لڑنے کے پلان سے متعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی آگاہ نہ کیا۔

مصنف کے بارے میں