"انکل سرگم"،جن کو تیکھے جملوں نے شہرت دلادی

اسلام آباد :پاکستان کا مشہور اور پہلا کٹھ پتلی کردار انکل سرگم کے تخلیق کار رائٹر و آرٹسٹ فاروق قیصر  کی آج  تیسری برسی  ہے۔ 31 اکتوبر 1945ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے فاروق قیصر 14 مئی 2021ء کو اسلام آباد میں فوت ہوئے، آج ان کی تیسری برسی منائی جا رہی ہے۔
1976 ء میں بچوں کے پروگرام "کلیاں" میں کردار"انکل سرگم" جو آدھے گنجم اور آدھے بالم  تھے۔ وہ اپنی ٹیم ’ماسی مصیبتے، ہیگا، رولا، لشکارا، سوا لکھ باری، سنتری، گورا صاحب اور پینڈو‘ شامل ہیں۔

وہ جب بھی سکرین پر جلوہ گر ہوتے توان کا تعارف کچھ اس طرح سے کرایا جاتا کہ   ’اب تشریف لاتے ہیں، آدھے گنجم آدھے بالم، آدھے برہم آدھے سالم، جناب سرگم‘۔ فاروق قیصر اتنے مشہور ہوئے کہ  وہ جس بھی تقریب میں شرکت  کرتے تو انکل سرگم اور ماسی مصیبتے کے کردار کو پرفارم کرنے  کاکہاجاتا۔  ماسی مصیبتے جب آن سکرین آتیں تو سب سے پہلے اپنے انداز میں " ہائے وے ناما نیما " کہتیں تو ہر طرف ہنسی  پھوٹ پڑتی۔

فاروق قیصر کے کئی مکالمے باقاعدہ ضرب المثل بن چکے ہیں جن میں ’سمال کراکری، مک مکا، او بدتمیزا او کے طراں (وہ کس طرح)‘ وغیرہ شامل ہیں۔فاروق قیصر اپنے فن سے تقریباً 50 برس جڑے رہے اور ملک کی تین نسلوں کو متاثر کیا۔
چھوٹے بڑوں بلکہ بوڑھوں کے بھی ’انکل‘ 14 مئی 2021 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے تھے۔
فاروق قیصر 31 اکتوبر 1945 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور نیشنل کالج آف آرٹس سے تعلیم حاصل کی۔وہ کالم نگار، ڈائریکٹر، کٹھ پتلی ساز، اسکرپٹ رائٹر اور وائس ایکٹر بھی تھے جبکہ انہوں نے بہت سی مزاحیہ کتابیں بھی لکھیں۔
اپنے استاد شعیب ہاشمی کو مشعل راہ سمجھنے والے فاروق قیصر کو 1970 میں پہلی مرتبہ اکڑ بکڑ کے ذریعے پاکستان ٹیلی ویژن پر متعارف کرایا گیا لیکن انہیں اصل شہرت 1976 میں ڈرامہ کلیاں میں اپنے کردار انکل سرگم سے ملی اور وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔
انکل سرگم ایک کٹھ پتلی کردار ہے جسے 1976 میں سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے پاکستانی بچوں کے ٹی وی شو کلیاں میں پہلی مربتہ متعارف کرایا گیا اور اس کردار کو تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ آواز بھی فاروق قیصر نے اپنی ہی دی تھی۔


انکل سرگم اور ماسی مصیبتے کو پاکستان کی افسانی کٹھ پتلی جوڑی سمجھا جاتا ہے جبکہ کلیاں، پتلی تماشا اور سرگم ٹائم فاروق قیصر کے مشہور پروگرام تھے۔

فاروق قیصر کی فنی خدمات کے اعتراف میں 1993 میں صدارتی ایوارڈ  اور  ستارہ امتیاز سے نوازاگیا تھا۔

انہوں نے سکالرشپ پر رومانیہ جا کر بھی تعلیم حاصل کی جبکہ یونیسکو کی جانب سے دو سال بھارت جا کر بھی تعلیمی خدمات انجام دیں۔

 فاروق قیصر نے اپنے ہنر سے پتلی تماشا جیسے صدیوں پرانے فن کو نئی جہت سے آشنا کیا ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مصنف کے بارے میں