کرکٹ کا فیلڈ مارشل ،جاوید میانداد سے متعلق ایسے حقائق جو آج تک آپ نہیں جانتے

Javed Miandad,Pakistan Team,Cricket Team

قسط نمبر1


نوجوان کا عزم دیکھ کر کپتان نے بیٹسمینوں کو کہلوا دیا اگلی گیند پر ایک کھلاڑی اسٹمپڈ آئوٹ ہو کر آگیا۔ آخری اوور کی پہلی گیند پر ایک رن بنا، وہ نوجوان بیٹنگ اسٹرائیک پر آیا، اگلی گیند اتنی عمدہ تھی کہ نوجوان کو اسے بلے پر روکنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آیا، کپتان نے مایوسی سے سر کو جھٹکا، نوجوان نے گرائونڈ میں چاروں طرف نظریں دوڑائیں، چار گیندوں پر جیت کے لیے 17رنز ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور تھے لیکن اس نوجوان کا اعتما داور عزم توانا تھا، اوور کی تیسری گیند جوں ہی بولر کے ہاتھ سے نکلی نوجوان نے آگے نکل کر اسے اسی سمت ہوا کے دوش پر بائونڈری سے باہر پہنچا دیا، اگلی گیند کا بھی یہی حشر ہوا، گرائونڈ میں ہر طرف شور بپا تھا۔ چند لمحے پہلے جن چہروں پر شکست کے آثار دیکھے جاسکتے تھے وہ امید کی چمک لیے روشن ہو گئے۔ حریف سائیڈ کو فتح اپنے ہاتھوں سے سرکتی نظر آنے لگی، پانچویں بال جوں ہی نوجوان کی طرف آئی اس نے ایک قدم آگے بڑھا کر گیند کو فیلڈروں کے سروں سے اوپر تیسرے چھکے کے لیے روانہ کر کے پویلین کی طرف دوڑ لگا دی۔ اسے سوفیصد یقین تھا کہ گیند فیلڈرز کی پہنچ سے دور تماشائیوں میں ہی گرے گی اور ہوا بھی ایسا۔ نوجوان نے جو کہا تھا اسے سچ ثابت کردیا۔ اس کو کندھوں پر اٹھا لیا گیا تھا، اس نے ناممکن کو ممکن کردیا، آنے والے دور میں وہ نوجوان پاکستانی ٹیم کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوا۔ مردِبحران کا خطاب پایا۔ آنے والے دور میں کبھی ہم اسے بھارتیوں سے دو دو ہاتھ کرتا ہوا دیکھتے تو کبھی وہ کیویز کا شکار کرتا نظر آیا، کبھی وہ کینگروز سے پنجہ آزمائی کرتا نظر آتا تو کبھی وہ گوروں کو کرکٹ کا سبق پڑھاتا نظر آتا، کبھی ہم اسے کالی آندھی کے سامنے چٹان کی مانند کھڑا دیکھتے تو کبھی وہ پسینے میں شرابور شارجہ کے تپتے صحرا میں قوم کے لیے امرت کا دھارا ثابت ہوتا، کبھی ہم اسے مخالف بالر کے سامنے آہنی چٹان کی طرح سیسہ پلائی دیوار بنا دیکھتے تو کبھی وہ بولرز پر قہر بن کر لاٹھی چارج کرتا نظر آتا، کبھی ہم اسے بغیر ہیلمٹ کے فاسٹ بالر کو چیلنج کرتا ہوا دیکھتے تو کبھی وہ استاد بن کر نوجوانوں کو کرکٹ کی ابجد سکھاتا ہوا نظر آتا۔ وہ نوجوان جس پر دنیائے کرکٹ بالخصوص پاکستان کرکٹ ہمیشہ فخر کرتی رہے گی وہ انمول ہیرا عظیم جاوید میانداد ہے۔
کسی کمنٹریٹر نے کیا خوب کہا تھا کہ ’’کرکٹ کی تاریخ میں اس سے بہتر نظارہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا جب پاکستانی ٹیم تباہی کے دہانے پر کھڑی ہو اور اسے بچانے کے لیے جاوید میانداد میدان میں آئے۔ جاوید میانداد بلاشبہ عظیم کھلاڑی تھے، وہ تقریباً دو عشروں تک پاکستان کی ناقابل بھروسہ بیٹنگ لائن کو بکھرنے سے بچاتے رہے۔ ان کا دور بلاشبہ پاکستان کرکٹ کا سنہری دور تھا، جتنی کامیابیاں پاکستان نے اس دور میں حاصل کیں وہ نہ تو کبھی اس سے پہلے حاصل ہوئیں اور نہ ہی وہ مقام اور اتنی کامیابیاں بعد میں حاصل ہوئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دور میں پاکستانی ٹیم کو زیادہ تر کامیابیاں عمران خان کے دور قیادت میں ملیں مگر اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان کی کامیابیوں میں زیادہ تر ہاتھ جاوید میانداد کا تھا مگر جاوید میانداد نے اپنے دور قیادت میں جو کامیابیاں سمیٹیں وہ عمران خان کے بغیر حاصل کیں۔
جاوید میانداد نے کرکٹ کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا۔ آپ ذہن پر زور دیں اور کسی بھی صلاحیت اور خوبی کے بارے میں سوچیں جو ایک عظیم کرکٹر میں ہونی چاہیے وہ خوبی یقینا آپ کو میانداد میں مل جائے گی۔ بیٹنگ ہو یا بولنگ، فیلڈنگ ہو یا وکٹ کیپنگ یا پھر کوچنگ۔ ملک کو جب بھی ضرورت پڑی انہوں نے آگے بڑھ کر ہر اول دستے کا کردار ادا کیا، جب انہوں نے کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا تو اس وقت ملک میں ہاکی کا دور دورہ تھا۔ ہاکی کے تمام بڑے اعزازات عالمی کپ، اولمپک، چیمپئنزٹرافی اور ایشیاکپ پاکستان کے قبضے میں تھے۔ ہاکی پلیئر نوجوانوں کے آئیڈیل ہوا کرتے تھے۔ اگرچہ اس وقت بھی پاکستان کرکٹ میں بڑے بڑے سپرسٹار تھے مگر ٹیم بڑی فتوحات سے دور تھی۔ کبھی کبھار کسی ٹیسٹ سیریز میں دو ایک ٹیسٹ میں فتح ہمیں مل جاتی۔ اصل میں اس وقت ٹیم میں جارحانہ انداز میں کھیلنے والے کھلاڑی کم کم تھے، ہماری کامیابی فقط سیریز ڈرا کر لینا ہی ہوتی۔ بقول ایک کرکٹ مبصر کے 1960ء کی دہائی میں پاکستان کرکٹ کی پہچان اکتاہٹ، فدویانہ رویے اور دفاعی انداز سے ہونے لگی تھی مگر 1970ء کی دہائی میں یہ کھیل عظیم کھلاڑیوں کے اضافے اور جوشیلی قیادت کی آمد سے جاگ اُٹھا۔ پاکستانی ٹیم جو ایک لمبے عرصے سے شکست کھا کھا کر جمود کا شکار ہو چکی تھی اچانک دنیا کی کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کے قابل بن گئی۔
جاوید میانداد نے 15سال کی عمر میں نصف سنچری سے فرسٹ کلاس کا آغاز کیا، اگلے ہی سال ’’سال کا بہترین آل رائونڈر‘‘ کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ اس سے اگلے سال فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹرپل سنچری کا عالمی ریکارڈ توڑ کر دنیائے کرکٹ میں اپنی آمد کا ڈنکا بجوا دیا۔ عبدالحفیظ کاردار نے اسے اس دہائی کی سب سے بڑی دریافت قرار دیا۔ میانداد نے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز سنچری سے کرکے عالمی ریکارڈ بنایا، انہوں نے کیریئر کے شروع میں ہی ٹیسٹ کرکٹ میں فاسٹ بالرز کو کریز سے نکل نکل کر مارنے کا انداز اختیار کیا جو ٹیسٹ کرکٹ کی روایات سے ہٹ کر تھا۔ انہوں نے تیسرے ہی ٹیسٹ میں کم عمر ترین ڈبل سنچری میکر کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے ماتھے پر سجالیا۔ بقول منیر حسین ’’جاوید میانداد کی گرفت بلے پر بڑی منفرد انداز کی ہوتی یعنی ان کے دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے دور ہوتے تھے اور وہ اتنی نرمی سے بلے کو پکڑتے کہ انہیں گیند کو اپنی مرضی سے Place کرنا آسان ہو جاتا۔ وہ کبھی جارحانہ انداز تو کبھی دفاعی انداز میں مگر حساب کتاب سے وکٹوں کے درمیان دوڑتے اور فیلڈروں کو متحرک رکھتے۔ وہ صرف طاقتور اسٹروکس پر ہی انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ مخالف ٹیم سے رنز چرانے کے بانیوں میں سے بھی تھے۔ ’’جاوید میانداد اپنے مخالف کپتان اور بولر کو اس بات پر ترغیب دیتے کہ ان کے گرد فیلڈروں کا حصار قائم کیا جائے۔ جب فیلڈروں کی بھیڑ ان کے آس پاس لگ جاتی تو وہ ان کے سروں کے اوپر سے اونچے شاٹس کھیل دیتے، مخالفین کو بے وقوف بنانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ وہ سچویشن کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتے تھے، اگر جارحانہ انداز اختیار کرتے تو پھر کوئی بھی ان کے طاقتور شاٹس کو بائونڈری سے پار جانے سے نہیں روک سکتا اور اگر وہ دفاع پر اتر آتے تو وکٹوں کے سامنے پہاڑ کی مانند کھڑے ہو جاتے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ انہیں آئوٹ کرنا ہے تو بولر کو تینوں اسٹمپس پر نظر جمانا ہو گی وہ اپنے پورے ٹیسٹ کیریئر کی 189اننگز میں صرف 33مرتبہ ہی ایل بی ڈبلیو آئوٹ ہوئے۔
جاوید میانداد نے جس وقت کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا تو فاسٹ بولنگ کا طوفان سونامی بن کر انگڑائی لے رہا تھا۔ 1970ء کے عشرے کے اختتام اور 1980ء کے عشرے میں فاسٹ بولنگ عروج پر رہی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پوری کرکٹ کی تاریخ کے کسی بھی دور میں اتنے خطرناک اور تیزترین فاسٹ بولرز کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں یکجا نہیں ہوئے۔ یہی زمانہ میانداد کا ہے۔ انہوں نے جن جن بولروں سے دو دو ہاتھ کیے ان میں ڈینس للی، جیف تھامسن، جیف لاسن، جوئیل گارنر، کولن کرافٹ، اینڈی رابرٹ، میلکم مارشل، سرگوشی کرتی ہوئی موت کے لقب سے مشہور مائیکل ہولڈنگ، سلویسٹر کلارک، کارٹنی والش، آئن بوتھم، باب ولس، رچرڈہیڈلی، کپل دیو، کرٹلے امبروز، ایلن ڈونلڈ، پیٹرک پیٹرسن جیسے بولرز شامل ہیں۔
میانداد نے عمران خان، وسیم اکرم، سرفراز نواز، وقار یونس جیسے بولروں کا ہم وطن ہونے کی وجہ سے سامنا نہیں کی۔ ذرا اندازہ لگایئے کہ بولنگ کی دنیا کے کتنے بھاری بھرکم نام ہیں۔ کرکٹ کی سوسالہ تاریخ میں صرف دو بولرز ہی تین سو وکٹوں کا ہدف عبور کرسکے مگر میانداد کے دور میں دس سے زیادہ بولروں نے نہ صرف 300 بلکہ 400وکٹوں کے ہدف کو بھی چھو لیا تھا۔ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ میانداد کو اپنے کیریئر کے دوران کرکٹ کی تاریخ کے سب سے زیادہ خطرناک تیزرفتار اور مشکل بولرز کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور کے تمام بیٹسمینوں میں میانداد کا رن ریٹ ان تمام کھلاڑیوں سے زیادہ تھا۔ یہی میانداد کی عظمت کی دلیل ہے۔ میانداد نہ صرف فاسٹ بولنگ بلکہ سپن بولنگ کے خلاف بھی انتہائی خطرناک ثابت ہوتے تھے۔ ان کی نظریں بہت تیز تھیں، وہ گیند کو بولرز کے ہاتھوں سے نکلنے سے پہلے ہی بھانپ لیتے کہ آنے والی گیند کیسی ہو گی۔ وہ سپنرز پر کتنے حاوی تھے اس بات کا اندازہ اس سے لگایئے کہ اپنے کیریئر کے شروع میں ہی یعنی 1978ء کی انڈیا کے خلاف ہوم سیریز میں سپن بولنگ کے شہنشاہ بشن سنگھ بیدی، چندر شیکھر اور پرسنا جیسے جادوگر سپنرز کو پوری سیریز میں اپنی وکٹ نہیں لینے دی۔ جاوید میانداد کو وکٹوں کے درمیان تیزترین رننگ کی وجہ سے ’’چیتے‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ کم وقت میں اور کم گیندوں پر زیادہ رنز بٹورنا انہی کا خاصا تھا، گیند کو اپنے قریب گرا کر رن لینے کا فن تو جیسے میانداد کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ میانداد بولروں سے چھوٹی موٹی جنگیں لڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ ان کے بیٹ سے رنز کا سیلاب اُمڈتا تو اس کے ساتھ ہی ان کی زبان بھی خوب چلتی تھی، جہاں ان کے لیے بولر پر کسی بھی قسم کا اسٹروک مارنا مشکل نہ تھا وہیں پر ان کے پاس الفاظ کے ذخیرے کی بھی کمی نہ تھی۔ فاسٹ بولر ہو یا سپنر ان کو چیلنج کرنا میانداد کی جبلت میں شامل تھا۔ وہ کسی بھی مخالف ٹیم، کھلاڑیوں کو آرام سے بیٹھنے کا موقع نہیں دیتے بلکہ مخالف کھلاڑیوں سے باتوں کی جنگ کو انہوں نے آرٹ کی شکل دے دی تھی، یہاں تک کہ ICC کو اسے کنٹرول کرنے کے لیے باقاعدہ قانون بنانا پڑا۔ بقول آسٹریلوی وکٹ کیپر راڈنی مارش ’’جاوید جیسے جیسے آپ کو باتوں کے ذریعے تنگ کرے گا اتنا ہی وہ لاجواب کھیل کا مظاہرہ کرے گا، دراصل وہ مخالفین کو تنگ کر کے اپنی قوتوں کو بہتر طریقے سے بروئے کار لاتا ہے‘‘۔ سنیل گواسکر اور چیپل برادران نے تو کھل کر اعتراف کیا ہے کہ میانداد کو مخالف کھلاڑیوں کے اعصاب پر چھا جانے کا فن آتا ہے۔
جب میانداد کریز پر قدم جما لیتے تو ان کی نظریں کبھی فیلڈر، کبھی سکوربورڈ پر تھرکتی رہتیں۔ گیند کی لائن اور لینتھ کچھ بھی ہو، اگر وہ ارادہ کر لیتے تو سوئپ ضرور کھیلتے۔ ریسورس سوئپ تو مشتاق محمد کا ایجادکردہ شاٹ تھا مگر جس مہارت سے میانداد کھیلتے وہ ان کی پہچان بن گیا تھا۔ وہ ایک روزہ کرکٹ میں ریسورس سوئپ کھیلنے کے بانی تھے اور جس مہارت سے میانداد فاسٹ اور سپن گیندوں پر لیگ گلانس کھیلتے تو بہت سے لوگ تعجب سے پوچھا کرتے کہ کیا لیگ گلانس کے بانی مہاراجہ رنجیت سنجھی بھی اس شاٹ کو اتنی مہارت سے کھیلتے ہوں گے۔ جاوید میانداد اپنے تجربات کو نوجوانوں تک منتقل کرتے رہے۔ وہ جس طرح ترغیب دے کر نوجوانوں کو کھلاتے ان کو جوش دلاتے ان کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے اور ان کو ان کی کمزوریوں سے آگاہ کرتے اس کا اعتراف تو ان کے مخالفین بھی کرتے ہیں۔ انہیں ٹیم مین کی حیثیت سے حرفِ آخر قرار دیتے تھے۔ میانداد کو جدت پسند ذہن کی وجہ سے ’’ون ڈے جینئس‘‘ کا نام دیا گیا تھا کیونکہ ان کا ذہن کمپیوٹر کی طرح کام کرتا تھا، انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں ایک نئی اصطلاح ایجاد کی یعنی شروع میں اِکادُکا رنز لے کر اپنی اننگز مستحکم کرتے اور آخری اوورز میں بولرز پر قہر بن کر ٹوٹ پڑتے۔ آسٹریلیاکپ اور عالمی کپ کی فتح اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھی۔
جاوید میانداد نے پاکستان کرکٹ کے لیے اولین اور تاریخی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا یا پھر ان تاریخی فتوحات میں ٹیم کے ممبر تھے۔ وہ چاہے 1978ء کی ہوم سیریز میں بھارت کی پہلی شکست ہو یا 1982 میں لارڈز کی تاریخی فتح کا وننگ شاٹ ہو یا 1987 میں بھارت اور انگلینڈ کو ان کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز کی شکست ہو یا ویسٹ انڈیز کو ان کے گھر میں ایسی نکیل ڈالی کہ بمشکل وہ امپائر کی مدد سے سیریز بچاپائیں۔ شارجہ کی فتوحات ہو یا نہروکپ کی فتح، آسٹریلشیا کپ کی تاریخی فتح ہو یا پھر عالمی کپ کی شاندار اور نہ بھلائی جانے والی جیت ان سب فتوحات میں کسی نہ کسی طرح میانداد کا ہاتھ ضرور تھا۔ جاوید میانداد نے جب اپنے ٹیسٹ کا سفر ختم کیا تو اس وقت وہ رنز کے اعتبار سے آل ٹائم فہرست میں ایلن بارڈز اور سنیل گواسکر کے بعد تیسرے نمبر پر تھے۔ وہ دنیائے کرکٹ کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ٹیسٹ کیریئر کے پہلے ٹیسٹ، 50ویں ٹیسٹ اور 100ویں ٹیسٹ میں سنچریاں سکور کیں  بلکہ اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی اننگز، 50ویں اننگز اور 100ویں اننگز میں بھی سنچریاں بنانے والے دنیائے کرکٹ کے منفرد کھلاڑی قرار پائے۔ اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی اننگز سے آخری اننگز تک ان کا رن ریٹ کبھی بھی 50 سے نیچے نہیں آیا جو ایسا سنگ میل ہے جو عظیم بریڈمین کے حصے میں بھی نہیں آیا۔ وہ دنیا کے پانچ مختلف ملکوں کے خلاف ڈبل سنچریاں بنانے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی تھے تو چھ ڈبل سنچریاں بنانے والے دنیا کے تیسرے کھلاڑی قرار پائے۔ جاوید میانداد ایک روزہ میچوں میں کیلنڈر ایئر میں 1000رنز بنانے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی تھے تو شارجہ میں بھی سب سے پہلے 1000رنز بنانے والے بھی میانداد ہی تھے۔
وہ ورلڈکپ میں 1000رنز بنانے والے دنیا کے دوسرے کھلاڑی تھے تو چھ ورلڈکپ کھیلنے والے پہلے کھلاڑی بھی میانداد ہی تھے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے وقت وہ ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے دوسرے کھلاڑی اور 50نصف سنچریاں بنانے والے بھی دوسرے کھلاڑی تھے۔ انہوں نے ایک روزہ میچوں میں لگاتار 9میچوں میں 50 سے زائد رنز بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا جو ابھی تک ان کے قبضے میں ہے۔
٭جاوید میانداد کو 1975-76ء میں پاکستان کرکٹر گلڈ نے ’’بہترین آل رائونڈر‘‘ کا ایوارڈ دیا۔
٭1977ء میں پاکستان کے ’’کرکٹر آف دی ایئر‘‘ قرار دیے گئے۔
٭1980ء میں بھارت نے ’’کرکٹر آف دی ایئر‘‘ قرار دیا۔
٭1982ء میں انگلینڈ میں دھماکہ خیز کارکردگی کی بنا پر انہیں ’’وزڈن کرکٹر آف دی ایئر‘‘ قرار دیا گیا۔
٭1982ء میں ہی میانداد نے عمران خان کے ساتھ مل کر شارجہ میں بخاطر انٹرنیشنل ڈبل وکٹ چیمپئن شپ جیتی۔
٭1988-89ء میں ویسٹ انڈیز میں میانداد نے چار سنچریاں سکور کیں جن کی وجہ سے ان کو ’’کرکٹر آف دی ایئر‘‘ قرار دیا گیا۔
٭1989ء میں آسٹریلوی کتاب ’’The Greatest‘‘ میں ان کو دنیا کے 12عظیم ترین بلے بازوں میں شامل کیا گیا۔
(جاری ہے)
٭…٭…٭

مصنف کے بارے میں